Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2128

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

Zujajat al-Masabih 2128Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2493
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ اُحد میں) جب صحابہ کرام میدان جنگ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس ہونے والوں میں (حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نظر نہیں آئے (حضور حمزہ کو تلاش کرنا چاہے اور دریافت فرمائے کہ دیکھو حضرت حمزہ کہاں ہیں) تو ایک صاحب عرض کئے کہ میں نے حضرت حمزہ کو فلاں درخت کے پاس دیکھا ہے، حضرت اس درخت کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت حمزہ کو دیکھے کہ مثلہ کئے ہوئے ہیں، ناک، کان اور دوسرے اعضاء کٹے ہوئے ہیں، اس منظر کو دیکھ کر حضور کا سینہ غم سے بھر آیا، اور حضور رونے لگے (حضور کی یہ حالت دیکھ کر) ایک انصاری اٹھے اور حضرت حمزہ کو ایک چادر سے چھپا دیئے (تاکہ وہ منظر دکھائی نہ دے) پھر حضرت حمزہ (نماز جنازہ پڑھائے جانے کے لئے) لائے گئے تو حضور ان کی نماز جنازہ ادا فرمائے، (اور حضرت حمزہ کو اسی طرح رکھا گیا، ان پر دوبارہ نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی) دوسرے شہداء کو میدان جنگ سے لالا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھا جاتا اور حضور ان پر نمازِ جنازہ ادا فرماتے جاتے، نماز جنازہ کے بعد یہ جنازے اٹھائے جاتے اور دوسرے نئے جنازے لا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھے جاتے، پھر حضور ان پر نماز جنازہ ادا فرماتے، یہاں تک کہ تمام شہداء پر حضور نماز جنازہ ادا فرمائے (اور اس وقت تک حضرت حمزہ کا جنازہ برابر اسی مقام پر رہا، یہ دیکھ کر راوی سمجھے کہ دوسرے شہداء کے ساتھ حضرت حمزہ کی نمازِ جنازہ بھی بار بار ادا ہوئی، حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ حضرت حمزہ کی نماز ایک ہی مرتبہ ادا ہوئی، اس لئے نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا ثابت نہیں، اور یہی مذہب حنفی ہے) جب سب شہیدوں کی نمازِ جنازہ ادا ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (اگرچہ غزوہ احد میں اور بھی شہید ہوئے ہیں مگر) حضرت حمزہ (جس بے دردی سے شہید کئے گئے اس وجہ سے) میدانِ قیامت میں حضرت حمزہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سید الشہداء پکارے جائیں گے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Narrated by Al-Hakim, etc.

(1) The statement: "Narrated by Al-Hakim, etc." He said: "Its chain is authentic, though the two (Al-Bukhari and Muslim] did not narrate it. However, in its chain is Mufaddal ibn Sadaqah Abu Hamad Al-Hanafi. Although Yahya and Al-Nasa’i weakened him, Al-Ahwazi said: 'Ata ibn Muslim trusted him, and Ahmad ibn Muhammad ibn Shuaib praised him highly.' Ibn Adi said: 'I see no harm in him, so the narration does not fall below the level of Hasan, and it is independently valid as evidence. At the very least, it is suitable as supporting evidence for other narrations.' This is mentioned in Fath Al-Qadeer."

Note 1

قوله

(۱) قوله: رواه الحاكم إلخ وقال : صحيح الإسناد ولم يخرجاه إلا أن في سنده مفضل بن صدقة أبو حماد الحنفي، وهو وإن ضعفه يحيى والنسائي، فقد قال الأهوازي: كان عطاء بن مسلم يوثقه، وكان أحمد بن محمد بن شعيب يثني عليه ثناء تاما. وقال ابن عدي ما أرى به بأسا فلا يقصر الحديث عن درجة الحسن، وهو حجة استقلالا، فلا أقل من صلاحيته عاضدا لغيره. قاله في فتح القدير».

Note 1

اس کی روایت حاکم نے کی ہے۔ اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ اگرچہ کہ بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔12