اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2561
عمران بن حصین اور ابو برزہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات
فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہوئے (اس زمانہ
کے رواج کے مطابق اسلامی شعار اور سنت یہ تھی کہ مسلمان قمیصوں پر چادر اوڑھ کر باہر نکلتے تھے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرمائے کہ میت کے قرابتدار (اظہار غم کے لئے) چادروں کو
رکھ دئے ہیں اور (جاہلیت کے طریقہ کے موافق بغیر چادروں کے صرف) قمیصوں کے ساتھ جنازہ
کے ساتھ چل رہے ہیں (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (تم کو کیا ہوا ہے
باوجودیکہ اسلام آچکا ہے پھر بھی) تم جاہلیت کے کام کر رہے ہو (زمانہ جاہلیت میں جیسے غم کا اظہار
کرتے تھے تم بھی زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کر کے اپنی چادروں کو پھینک کر غم کا اظہار کر
رہے ہو) (یہ اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف کر رہے ہو) میرا ارادہ ہوا تھا کہ (جیسے تم اپنی
ہیئت کو بدل کر غم کے لئے دوسرے ہیئت اختیار کئے ہو) میں بھی تمہارے لئے بددعا کروں کہ
تمہاری انسانی صورتیں مسخ ہو کر (غیر انسانی) صورتیں ہو جائیں (یہ وعید سن کر میت کے قرابتدار ڈر
گئے اور اپنی اپنی چادریں لے کر اوڑھ لئے (اور پھر کسی کے غم میں اس طرح) بغیر چادروں کے نہیں
نکلے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1485 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.