اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2605
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جو کوئی سونے یا چاندی کا مالک ہو (یعنی صاحب نصاب ہو) اور وہ اس
(مال) کا حق (یعنی زکات) ادا نہ کرے تو ایسے شخص کے لئے قیامت کے دن وہ سونا اور چاندی
(عذاب کا ذریعہ بن جائیں گے اس طرح کہ) اس سونے اور چاندی کی تختیاں بنائی جائیں گی، اور
ان تختیوں کو آگ میں اس قدر تپایا جائے گا کہ وہ آگ بن جائیں گی اور آگ کی ان تختیوں سے
اس شخص کے پہلو پیشانی اور پیٹھ کو داغ دیا جائے گا۔ اس عمل سے جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی
تو پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے اور تپایا جائے گا اور ان سے داغ دیا جاتا رہے گا اور وہ
دن (جس میں یہ عمل کیا جاتا رہے گا وہ اتنا بڑا ہوگا کہ جس) کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں
کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 987a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1773 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 1773
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "Among their dues is milking them." This is on the basis of recommendation. Know that its mention is incidental and explanatory of what should be cared for by someone with honor, not because of the punishment. [Summarized from Mirqat]
Note 2
(2) The statement: "He did not forget the right of Allah regarding their backs and necks." Al-Nawawi said: "Abu Hanifa used this as evidence for the obligation of Zakat on horses."
Note 1
(۱) قوله: من حقها حلبها: هذا على سبيل الاستحباب، واعلم أن ذكره وقع استطرادا وبيانا لما ينبغي أن يعتنى به من له مروءة لا لكون التعذيب. «مرقاة» ملخصا.
Note 2
(٢) قوله : ثم لم ينس حق الله في ظهورها ولا رقابها: قال النووي: استدل به أبو حنيفة على وجوب الزكاة في الخيل.
Note 1
دوزخ میں بھیج دئے جائیں گے (صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے بیان کیا ہے کہ حدیث شریف میں پہلو، پیشانی اور پشت کو داغ دئے جانے کا جو ذکر آیا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ تینوں جسم کے اشرف اعضاء ہیں کہ اعضاء رئیسہ دل، دماغ اور جگر ان ہی میں ہیں۔ ان اعضاء کے داغ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ہی اعضاء کی زیب و زینت کے لئے اس نے مال جمع کیا اور زکات دینے سے گریز کیا، ان اعضاء کو داغ دینے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان ہی اعضاء سے اس نے سائل کو تکلیف پہنچائی۔ پہلو پر اس لئے داغ دیا جائے گا کہ سائل کے سوال پر پہلو تہی کیا اور پیشانی کو اس لئے داغا جائے گا کہ سائل کو دیکھ کر منھ پھیر لیا، اور پیٹھ کو اس لئے داغا جائے گا کہ حاجتمند سے پیٹھ پھیرا) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سونے چاندی کی زکات ادا نہ کرنے کی وعید کو سن کر) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (یہ تو زرِ نقد کا حکم تھا اب ارشاد ہو کہ) اونٹوں (اونٹوں کی زکات کا نصاب آئندہ باب میں آ رہا ہے۔12) کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اونٹ والے پر دو حق ہیں، ایک حق تو اونٹوں کی زکات ادا کرنے کا ہے جو فرض ہے دوسرا حق جو مستحب ہے یہ ہے) کہ اونٹوں کا دودھ اس دن نکالا جائے جس دن ان کے پانی پینے کی باری ہوتی ہے (تاکہ فقراء جو ایسے موقعوں پر جمع ہو جاتے ہیں وہ پی کر دودھ سے شکم سیر ہو سکیں، اور یہ حکم مستحب ہے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کی زکات نہ دینے والے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈالا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ وہاں پوری تعداد میں موجود ہوں گے ان میں ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا، اور وہ خوب موٹے تازے ہوں گے یہ اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے اور کچلیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے اور جب ان اونٹوں کی ایک قطار اس طرح روند کر، کچل کر، اور کاٹ کر گزر جائے گی، تو اونٹوں کی دوسری قطار روندنے، کچلنے اور کاٹنے کے لئے آ جائے گی، اور اس طرح یہ عمل اس دن ہوتا رہے گا کہ جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دئے جائیں گے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ گائے اور بکریوں کے مالک کا کیا ہوگا (جس نے صاحب نصاب ہونے کے باوجود ان کی زکات نہ دی ہو)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے اور بکریوں کی زکات (گائے اور بکریوں کی زکات کا نصاب آئندہ باب میں آ رہا ہے۔12) نہ دینے والے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈالا جائے گا اور اس کی سارے گائیں اور بکریاں وہاں پوری تعداد میں موجود ہوں گی، ان میں ان کا ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا۔ ان کے سینگ نہ تو مڑے ہوئے ہوں گے نہ تو ٹوٹے ہوئے ہوں گے اور نہ وہ بے سینگ کے ہوں گے (یعنی سب کے سروں پر سینگ ہوں گے، اور سینگ صحیح و سالم ہوں گے تاکہ) یہ گائے اور بکریاں ان سینگوں سے اپنے اس مالک کو ماریں (جس نے ان کی زکات نہ دی ہو) اور اپنے کھروں سے اس کو کچلیں گے اور روندتے ہوئے گزر جائیں گے اور جب ان گائے اور بکریوں کی ایک قطار اس طرح سینگوں سے مارتی ہوئی اور پیروں سے کچلتی ہوئی گزر جائے گی تو ان کی دوسری قطار مارنے اور کچلنے کے لئے آ جائے گی، اور اسی طرح یہ عمل اس دن ہوتا رہے گا۔ جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار برسوں کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ دیئے جائیں گے (اس حدیث شریف میں کئی بار یہ ذکر ہے کہ قیامت کا دن دنیا کے پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا۔ اس بارے میں صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ اس دن کی پچاس ہزار کے برابر درازی کافروں کے لئے اور گنہگاروں کے لئے اس دن کی درازی ان کے گناہوں کے لحاظ سے ہوگی اور نیکوکار مؤمنین پر یہ دن اتنی دیر میں گزر جائے گا جتنی دیر میں فجر کی دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پھر عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! گھوڑوں (گھوڑوں کی زکات کے بارے میں تفصیلات آئندہ باب میں آ رہی ہیں۔12) کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضورؐ ارشاد فرمائے سنو! گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: (1) ایک تو وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے گناہ کا سبب بنتے ہیں، (2) دوسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے پردہ ہوتے ہیں، یعنی گھوڑوں کی وجہ سے وہ معزز سمجھا جاتا ہے اور اس کی محتاجی کا گمان کسی کو نہیں ہوتا، اور (3) تیسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے ثواب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ وہ گھوڑے جو مالک کے لئے گناہ کا سبب ہوتے ہیں اس شخص کے گھوڑے ہیں جن کو مالک نے فخر و غرور اور ریاء کے لئے باندھ رکھا ہے یا مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے تو ایسے گھوڑے (اس شخص کی ایسی نیت کی وجہ سے) اس کے لئے گناہ کا سبب ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ گھوڑے جو اپنے مالک کے لئے پردہ (عزت) کا سبب ہوتے ہیں، ایسے گھوڑے ہیں جن کو ان کے مالک نے خدا کی راہ میں اطاعت اور بندگی کی غرض سے باندھ رکھا ہے اور جو حقوق گھوڑوں کی پیٹھوں اور گردنوں سے متعلق ہیں ان کو ادا کرنا بھی نہیں بھولا ہے۔ (مثلاً کسی کی ضرورت پر ان کو مستعار دیا کرتا ہے) تو ایسے گھوڑے اپنے مالک کی عزت کا سبب بنتے ہیں۔ تیسرے وہ گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کے لئے اجر وثواب کا سبب ہوتے ہیں، اور یہ اس شخص کے گھوڑے ہوتے ہیں جن کو مالک نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے چراگاہوں اور سبزہ زاروں میں باندھ رکھا ہے، ان چراگاہوں اور سبزہ زاروں میں سے یہ گھوڑے جس قدر کھائیں گے اس سبزہ کی مقدار کے موافق اس کے مالک کے حق میں نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان گھوڑوں کی لید اور پیشاب کا شمار بھی نیکیوں میں ہوتا ہے حتی کہ اگر کوئی گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک یا دو ٹیلوں پر چھلانگتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ اس گھوڑے کے قدموں کے نشانات کی تعداد کے برابر (اور اس دوڑنے کی حالت میں جو لید کرتا ہے) اس کی لید کی مقدار کے موافق اس کے مالک کے حق میں نیکیاں لکھ دیتے ہیں، اگر مالک ان گھوڑوں کو لے کر کسی نہر پر سے گزرے اور مالک کے ان گھوڑوں کو پانی پلانے کے ارادے کے بغیر بھی یہ گھوڑے پانی پی لیں تو پئے ہوئے پانی (کے قطرات کی تعداد) کے برابر اللہ تعالیٰ اس کے مالک کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھ دیتے ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ مالک کی نیت اور ارادہ کے بغیر گھوڑوں کے پانی پی لینے پر جب اتنا بڑا ثواب دیا جاتا ہے تو جب مالک ان کو ارادہ اور نیت کے ساتھ پانی پلاتا ہوگا تو اس ثواب کا کیا پوچھنا!) یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! گدھوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: گدھوں کے متعلق مجھ پر تو کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا، ہاں یہ جامع آیت موجود ہے: (پ:30،سورہ زلزال،ع:1،آیت نمبر:7-8،میں) ”فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ. وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ“۔ جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو قیامت میں دیکھ لے گا، اور جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر بھی بدی کرے گا وہ بھی اس کو قیامت میں دیکھ لے گا۔ (صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھے کے متعلق سے اس آیت کو جو بیان فرمایا ہے اس کا منشا یہ ہے کہ اگر گدھے کو کسی نیک کام میں استعمال کرے گا تو اس کے مالک کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا اور اگر کسی برے کام میں اس کو استعمال کرے تو اس کے مالک کو اس کی سزا ملے گی، صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ اتنی جامع اور مانع ہے کہ باوجود الفاظ کی کمی کے ایسے معنی اور مطالب کے لحاظ سے ہر عمل نیک وبد پر حاوی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔