اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2620
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک صاحب کو جن کا نام ابن اللُّتْبِيَّة تھا عامل زکات بنا کر بھیجا جب وہ
زکات وصول کر کے (مدینہ منورہ) واپس لوٹے تو (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے حساب لیا
تو وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زکات کا مال پیش کرتے ہوئے (جیسا کہ
بخاری کی ایک اور روایت میں مذکور ہے۔) عرض کئے: حضور! یہ مال آپ کا ہے (جو زکات میں دیا
گیا ہے) اور یہ مال مجھے ہدیۃ ملا ہے (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نے لوگوں کے
سامنے منبر پر) خطبہ ارشاد فرمایا: (اولاً) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی، پھر فرمایا: میں تم میں سے کچھ
آدمیوں کو ان امور پر مامور کرتا ہوں جن پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ پس ان میں
سے ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے: یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے: اگر یہ اپنے بیان میں سچا ہے) تو کیوں نہ اپنے ماں کے یا باپ کے گھر میں بیٹھ گیا
کہ دیکھ لیتا کہ وہاں اس کو ہدیہ کا مال آتا ہے یا نہیں۔ قسم ہے اس ذات عالی کی جس کے قبضہ
قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص بھی کوئی چیز بھی (بغیر استحقاق) لے گا تو وہ قیامت
کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر لدی ہوگی، اونٹ ہوگا تو بلبلا رہا ہوگا، گائے
ہوگی تو چلا رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو منمنا رہی ہوگی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں
ہاتھوں کو اٹھائے اور اتنا بلند فرمائے کہ حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغل کی سفیدی ہم کو نظر
آنے لگی اور فرمایا: اے اللہ! میں نے تیرا حکم (تیرے بندوں تک) پہنچا دیا! اے اللہ! میں نے
تیرا حکم (تیرے بندوں تک) پہنچا دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2597 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1832a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 2
(2) The statement: "Why did he not sit..?" The author of Radd al-Muhtar in the fourth volume, in the book of judgment, said: "The Prophet's (ﷺ) reasoning is evidence for the prohibition of gifts whose cause is authority." [Fath]
Note 3
(3) The statement: "Evidence…" In Mirqat: "What he said in the first principle agrees with our opinion and that of Al-Shafi'i, as it is among the established principles that the means take the ruling of the ends. Thus, the means to obedience is obedience, and the means to sin is sin. As for what he said in Mishkat regarding the second principle, it is suitable for the opinion of those who prohibit tricks that lead to escaping usury or other matters, like Malik. Abu Hanifa, Al-Shafi'i, and others who permit tricks do not consider this aspect, as the Prophet (ﷺ) taught his worker in Khaybar when he said: 'He buys a good measure of dates for two measures of bad dates,' a trick to escape usury, which is to sell the bad dates for dirhams and buy the good dates with them. Thus, the second principle in this book is established, and the second principle in Mishkat is refuted."
Note 2
(۲) قوله: فهلا جلس : قال صاحب رد المحتار في الجزء الرابع في كتاب القضاء تعليل النبي له دليل على تحريم الهدية التي سببها الولاية. «فتح».
Note 3
(۳) قوله: دليل : قال في المرقاة» وما قاله في الكلية الأولى فهو موافق لمذهبنا ومذهب الشافعي؛ لأن من القواعد المقررة أن للوسائل حكم المقاصد، فوسيلة الطاعة طاعة، ووسيلة المعصية معصية. وأما ما قاله في «المشكاة» من الكلية الثانية فإنما يليق بمذهب من منع الحيل الموصلة إلى الخروج عن الربا أو غيره كمالك. وأبو حنيفة والشافعي وغيرهما ممن يرى إباحة الجيل لا ينظرون إلى هذا الدخيل؛ لأن النبي ﷺ علم عامله على خيبر، وقد قال له: إنه يشتري صاع تمر جيد بصاعي رديء حيلة تخرجه عن الربا، وهي أن يبيع الرديء بدراهم، ويشتري بها الجيد، فتستفاد منه الكلية الثانية التي في هذا الكتاب، وتنتقض بها الكلية الثانية التي قالها في «المشكاة».
Note 1
اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”کیوں نہ اپنے ماں کے یا باپ کے گھر میں بیٹھ گیا کہ دیکھ لیتا کہ وہاں اس کو ہدیہ کا مال آتا ہے یا نہیں“؛ خطابی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس ارشاد نبوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دلیل ہے کہ ہر ایسی چیز جو کسی ممنوع یا ناجائز کام کا ذریعہ اور وسیلہ بنے وہ بھی ممنوع اور ناجائز ہے۔ شرح السنہ میں بھی ایسا ہی مذکور ہے، اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے مرقات میں لکھا ہے کہ یہ کلیہ ہے کہ ”ایسی چیز جو کسی ناجائز کام کا ذریعہ بنے وہ بھی ناجائز ہے“ مذہب حنفی اور مذہب شافعی کے موافق ہے، کیوں کہ وسائل کا حکم مقاصد کا ہوتا ہے، جو چیز طاعت کا وسیلہ بنے وہ بھی طاعت ہی ہوگی، اور جو چیز معصیت کا ذریعہ بنے وہ بھی معصیت ہی ہوگی۔ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں اسی حدیث شریف کے تحت ایک دوسرا کلیہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ہر ایسا کام جو کسی ناجائز معاملہ سے (مثلاً سود وغیرہ سے) بچنے کے لئے اختیار کیا جائے تو ایسا کام جائز ہوگا۔ چنانچہ خیبر کے عامل زکات کو جن کے پاس کچھ ردی کھجور تھے اور وہ ان کو اچھے کھجور سے بدلنا چاہتے تھے (اور یہ معاملہ یعنی ردی کھجور کو اچھے کھجور سے بدلنا ربوا یعنی سود کی تعریف سود کی تعریف میں آتا تھا) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سودی معاملہ سے بچانے کے لئے اس طرح ہدایت فرمائی کہ وہ دو صاع ردی کھجور کو اولاً بیچ دیں اور اس کی قیمت سے ایک صاع اچھے کھجور خریدیں چوں کہ یہ معاملہ سود سے بچنے کے لئے بطور ذریعہ کے اختیار کیا گیا ہے اس لئے جائز ہوگا (اس وجہ سے کہ ایسا وسیلہ جو حرام یا ناجائز کام سے بچنے کے لئے اختیار کیا جائے جائز ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامل زکات کے ہدیہ لینے کو پسند نہیں فرمایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ہدیہ جو حکومت کے اثر کی وجہ سے دیا جاتا ہو، اس کا قبول کرنا حرام ہے۔ ردالمحتار بحوالہ فتح اور صاحب مرقات نے اس کے عدم جواز کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ عامل زکات کو صاحب مال اس وجہ سے ہدیہ دیتے ہیں کہ ان کے مال سے زکات کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے جو ناجائز ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عامل کو اس کی خدمت کا معاوضہ مقرر ہے اور اس طرح کا ہدیہ بھی معاوضہ ہی متصور ہوگا اور اس صورت میں ایک خدمت کے دو معاوضے ہو جائیں گے جو جائز نہیں ہے۔12