اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2728
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے
حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی اور حضرت ابوذر
رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں (اس وقت) ایک لاٹھی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار سے
(جو اس وقت وہاں موجود تھے) پوچھا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور کثیر مال
چھوڑ گئے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے (کہ انہوں نے اس قدر جو کثیر مال چھوڑا ہے
اس سے ان پر کیا کچھ وبال ہوگا) کعب رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) جواب دیا کہ (میری رائے میں)
اگر وہ اس مال سے خدا کا حق یعنی زکات نکالتے تھے تو اس سے ان پر کوئی وبال نہ آئے گا (یہ سن کر)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ (جو وہاں موجود تھے ان کو غصہ آیا اور) انہوں نے اپنی لاٹھی سے کعبؓ کو)
مارتے ہوئے فرمایا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر
میرے پاس یہ (احد) پہاڑ سونے کا بن جائے اور اس کو میں راہِ خدا میں خرچ کر دوں اور وہ قبول بھی
ہو جائے تو میں اس بات کو ہرگز پسند نہ کروں گا کہ چھ اوقیہ سونا بھی اس میں سے اپنے پیچھے (بچا کر)
چھوڑ جاؤں (یہ کہتے ہوئے) حضرت ابوذرؓ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ اے عثمانؓ! میں تم کو خدا
کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ نے بھی ان کلمات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے نہیں سنا
ہے (اور اس سوال کو تین دفعہ دہرایا تو حضرت عثمانؓ نے جواب دیا) ہاں میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1897 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 1897
Confidence and text similarity are not editorial verification.