اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2855
ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذوالحجہ ایسے ہیں (کہ فضیلت اور ثواب
میں) کم نہیں ہوتے (اگرچہ کہ وہ 29 دن ہی کیوں نہ ہوں)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1912 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1089a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Do not decrease." In Umdat Al-Qari, it is said: "The days of Hajj may be affected by obscurity and decrease, just as the end of Ramadan may be affected by the obscurity of the crescent moon of Dhul-Qi’dah, leading to an error of adding or subtracting a day. Thus, ‘Arafah may fall on the eighth or tenth day. The meaning is that the reward of those standing at ‘Arafah on such a day is not less than what it would be if there were no error." Ibn Battal said: "A group of scholars said that if someone stands at ‘Arafah on the wrong day due to a widespread error among the people, it suffices for him, because these two months do not decrease in reward before Allah for those who worship Him through striving, just as the reward of Ramadan is not decreased if it is twenty-nine days." This is the opinion of ‘Ata’, Al-Hasan, Abu Hanifah, and Al-Shafi’i.
Note 1
(۱) قوله: لا ينقصان: قال في عمدة القاري»: قد يكون أيام الحج من الإغماء والنقصان مثل ما يكون في آخر رمضان بأن يغمى هلال ذي القعدة، ويقع فيه الغلط بزيادة يوم أو نقصانه، فيقع عَرَفَة في اليوم الثامن أو العاشر منه، فمعناه أن أجر الواقفين بعرفة في مثله، لا ينقص عما لا غلط فيه، وقال ابن بطال : قالت طائفة من وقف بعرفة بخطأ شامل الجميع أهل الموقف في يوم قبل يوم عرفة أو بعده أنه يجزئ عنه؛ لأنهما لا ينقصان عند الله من أجر المتعبدين بالاجتهاد، كما لا ينقص أجر رمضان الناقص. وهو قول عطاء والحسن وأبي حنيفة والشافعي.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ عید کے دو مہینے (ایسے) ہیں کہ ان (کے اجر و ثواب) میں کمی نہیں کی جاتی۔ اس بارے میں عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ ابر کی وجہ سے ایام حج کے تعین میں غلطی ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک دن کی کمی یا زیادتی ہو جاتی ہے جس طرح آخر رمضان میں تاریخ عید کے تعین میں غلطی ہوا کرتی ہے۔ ایام حج کے تعین میں غلطی کی صورت یہ ہے کہ ذوالقعدہ کے چاند دیکھنے میں ابر کی وجہ سے غلطی ہو جائے کہ ایک دن بڑھ جائے یا ایک دن گھٹ جائے، اگر غلطی کی وجہ سے ایک دن گھٹ جائے تو عرفہ، ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ کو ہو جائے گا اور اگر ایک دن بڑھ جائے تو عرفہ دس ذوالحجہ آ جائے گا اور حقیقت میں وقوف عرفہ نویں ذوالحجہ کو ہونا چاہئے تھا اس کی وجہ سے وہ لوگ جو غلطی کی وجہ سے آٹھویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کر لیں یا دسویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کر لیں تو ان کو وقوف عرفہ کا وہی ثواب ملے گا جو ٹھیک نویں ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کرنے والوں کو ملتا ہے۔ اور ابن بطال رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اسی طرح رمضان اگر 29 واں ہو جائے تو اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی بلکہ پورے تیس دن کا ثواب دیا جاتا ہے اور حضرت عطاء، حضرت حسن بصری، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔12