Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2501

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 2501Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2948Noor 2949
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی نفل) روزے متواتر رکھے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے کہ آپ اب (نفل) روزے نہیں چھوڑیں گے، اور اسی طرح (کبھی نفل) روزے چھوڑ دیتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفل روزے نہیں رکھیں گے (یعنی نفل روزے رکھنے کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص عادت مبارکہ نہ تھی) اور (حضرت عائشہؓ یہ بھی فرماتی ہیں کہ) میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کسی ماہ میں بجز رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، ہاں ماہ رمضان میں پورے روزے رکھا کرتے تھے اور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ شعبان میں جس قدر زائد روزے رکھتے دیکھی تھی، کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھی۔ اور ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے، سوائے چند دنوں کے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah Almighty: “Whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah.” (Qur’an 2:110)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1969 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1156a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He would fast all of Sha’ban.

(1) The statement: “He would fast all of Sha’ban.” In Fath al-Qadir, it is said: “Fasting all of Sha’ban and connecting it to Ramadan is good.” The recommended types of fasting are: fasting in Muharram, fasting in Rajab, fasting in Sha’ban, and fasting on the day of Ashura (the 10th of Muharram), according to the majority of scholars and the Companions. This is mentioned in Al-Zahiriyyah and Al-Alamkiriyyah. If someone asks, “Why did the Prophet (ﷺ) specifically fast more in Sha’ban?” The answer is: Because the deeds of people are raised to Allah in Sha’ban. In Al-Nasa’i, it is narrated from Usamah that he said: “O Messenger of Allah, I notice that you fast more in Sha’ban than in any other month.” The Prophet (ﷺ) said: “That is a month in which deeds are raised to the Lord of the worlds, and I love for my deeds to be raised while I am fasting.” This is mentioned by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان يصوم شعبان كله قال في فتح القدير: ومن صام شعبان و وصله برمضان فحسن انتهى. والمرغوبات من الصيام أنواع، أولها : صوم المحرم. والثاني: صوم رجب. والثالث: صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة له. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية». فإن قلت: ما وجه تخصيصه بشعبان بكثرة الصوم؟ قلت: لكون أعمال العباد ترفع فيه، ففي النسائي من حديث أسامة. قلت: يا رسول الله! أراك لا تصوم من شهر من الشهر ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر ترجع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم. قاله العلامة العيني في عمدة القاري».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان کے پورے روزے رکھا کرتے تھے۔ اس بارے میں فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شعبان کے پورے روزے رکھ کر ماہ رمضان کے روزوں سے ان کا اتصال کر دے تو بہتر ہے، جن نفل روزوں کی ترغیب دی گئی ہے ان کی قسمیں یہ ہیں: (1) ماہ محرم میں روزے رکھنا (2) ماہ رجب میں روزے رکھنا (3) ماہ شعبان میں روزے رکھنا (4) اور یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ۔ لیکن مسنون یہ ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کو بھی روزہ رکھ لیا جائے۔ یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں فتح القدیر اور ظہیریہ کے حوالے سے لکھا ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ شعبان میں جس قدر زیادہ روزے رکھتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نہیں رکھتے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ شعبان میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔12