Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2521

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 2521Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2970Noor 2971Noor 2972
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عید اضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں زیاد بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور وہ دن اتفاق سے عید کے دن یعنی عید قربانی یا عید فطر کے دن آ گیا ہے (مجھے کیا کرنا چاہئے) تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پورا کرنے کا حکم دیا (لہذا تم اور کسی دن اس کی قضاء کر لو، اس لئے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دو دنوں میں یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1991 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1138a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

I vowed...

(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.

Note 2

قوله

(۲) قوله: إني نذرت إلخ ولو نذر صوم الأيام المنهية أو صوم هذه السنة صح مطلقا على المختار، وفرقوا بين النذر، والشروع فيها بأن نفس الشروع معصية ونفس النذر طاعة فصح، ولكنه أفطر الأيام المنهية وجوبا تحاميا عن المعصية، وقضاها إسقاطاً للواجب، ويدل عليه هذا الحديث، والمعنى: أنه يمكن قضاءه، فيخرج به عن عهدة الأمر والنهي. الدر المختار» ورد المحتار» ملتقط منهما.