اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2973
نُبَیْشَہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ ایام تشریق (یعنی 11،12 اور 13 ذوالحج) کھانے پینے اور اللہ کی یاد کے دن
ہیں (اس لئے ان دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1141b (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: درمختار اور ردالمحتار میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اَیَّام مَنْہِیَّہ (ممانعت کے ایام) یعنی عیدالفطر کے روز اور عیدالاضحی اور ایام تشریق یعنی ذوالحج کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر کرے یا پورے سال بھر کے روزوں کی نذر مانے تو قول مختار یہ ہے کہ ایسے شخص کی یہ نذر مطلقاً صحیح ہے اس لئے کہ نذر ماننا طاعت ہے لیکن اس کو چاہئے کہ ان اَیَّام مَنْہِیَّہ میں روزہ رکھنے سے وجوباً پرہیز کرے تاکہ وہ معصیت سے بچ جائے اور ان ممنوعہ ایام میں اس نے روزوں کی جو نذر مانی تھی اور جس کی ادائی اس پر واجب ہوچکی ہے ان دنوں کے روزوں کو وہ دوسرے دنوں میں قضا کرلے، تاکہ نذر ماننے کا وجوب اس سے ساقط ہوجائے اور ممنوعہ ایام میں روزہ رکھنے کے گناہ سے بچ جائے۔ اسی لئے علماء احناف نے وضاحت کی ہے کہ ان ممنوعہ ایام میں روزوں کی نذر تو درست ہے مگر ان میں روزہ رکھنا گناہ ہے۔ اور صدر کی مذکورہ احادیث سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔12