اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3027
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف فرماتے تو مسجد میں سے (بیٹھے بیٹھے میرے حجرہ میں جو
مسجد سے متصل تھا) میری طرف سر جھکا دیتے اور میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی اور حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانی حاجت یعنی پیشاب، پاخانہ کے سوا (اعتکاف کی حالت میں) گھر تشریف
نہیں لاتے تھے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2029 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 297a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 3
(3) The statement: “He would lean his head towards me” indicates that it is permissible for him to extend his head to one of his family members to wash it. This is mentioned in ‘Al-Tatarkhaniyah’ and ‘Al-‘Alamgiriyah’.
Note 4
(4) The statement: “He would not enter the house except for human needs” includes reasons such as answering the call of nature, performing Friday prayer, etc. If he leaves to relieve himself, there is no harm in him entering his house and then returning to the mosque after completing ablution. However, if he stays in his house for even a moment, his I’tikaf is invalidated according to Abu Hanifah. This is mentioned in ‘Al-Muhit’ and ‘Al-‘Alamgiriyah’.
Note 3
(۳) قوله : أدنى إلى إلخ ولا بأس أن يخرج رأسه إلى بعض أهله ليغسله كذا في التاتارخانية». قاله في العالمكيرية».
Note 4
(٤) قوله : وكان لا يدخل إلخ ومن الأعذار الخروج للغائط والبول وأداء الجمعة. فإذا خرج لبول أو غائط لا بأس بأن يدخل بيته يرجع إلى المسجد، كما فرغ من الوضوء ولو مكث في بيته فسد اعتكافه، وإن كان ساعة عند أبي حنيفة الله. كذا في «المحيط». قاله في العالمگيرية».
Note 1
ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں محیط کے حوالے سے لکھا ہے کہ معتکف کے لئے منجملہ اور عذروں کے جس کی وجہ سے وہ مسجد سے باہر نکل سکتا ہے، یہ بھی ہے کہ وہ پیشاب، یا پاخانہ، یا نماز جمعہ کی ادائی کے لئے مسجد سے باہر نکلے اور اس کے لئے اس میں بھی حرج نہیں ہے کہ وہ مسجد کو واپس ہوتے ہوئے اپنے گھروں کے اندر جائے اور اسی طرح وضو سے فارغ ہو کر گھر کے اندر سے گزرتا ہوا جائے، البتہ اگر وہ گھر میں ٹھہر جائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور اگر وہ گھر میں سے گزرتا ہوا تھوڑی دیر کے لئے بھی ٹھہر جائے تو اس کا اعتکاف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس فاسد ہو جائے گا۔12