اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3126
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور ہم اس وقت قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں (ہمارے
سوا) دیہاتی عرب اور عجمی یعنی غیر عرب جیسے ایرانی رومی اور حبشی بھی تھے آپ نے ہم کو قرآن پڑھتے
دیکھ کر فرمایا: تم قرآن پڑھتے جاؤ تم میں کا ہر شخص قرآن اچھا پڑھتا ہے اور ہر ایک کو پورا پورا ثواب مل
رہا ہے اس لئے کہ تم تکلف اور تصنع سے دور ہو لیکن عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کے
پڑھنے میں ایسا تکلف اور تصنع کریں گے۔ اور قرآن کے الفاظ اور کلمات کو ایسا سیدھا کرنے کی کوشش
کریں گے جیسے کہ تیر کو سیدھا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے (اور ان کی یہ کوشش ریاکاری اور نام و نمود کے
لئے ہوگی) اس لئے دنیا میں تو اس کا فائدہ حاصل کریں گے۔ لیکن آخرت میں ثواب سے محروم رہیں
گے (اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تجوید اور قرأت کو معاش اور شہرت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اس
حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 830 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.