اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3275
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے میرے بندو! میں
نے اپنی ذات پر ظلم حرام کرلیا ہے (یعنی میں کسی پر ظلم نہیں کرتا) اور ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام قرار
دیا ہے اس لئے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ
ہو مگر وہ شخص (گمراہ نہیں) جس کو میں ہدایت دوں پس تم مجھ سے ہدایت طلب کیا کرو میں تم کو
ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو مگر وہ شخص (بھوکا نہیں) جس کو میں
کھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب برہنہ
ہو مگر وہ شخص (برہنہ) نہیں جس کو میں کپڑا دوں پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دوں گا۔ اے
میرے بندو! تم رات دن گناہوں میں مبتلا رہتے ہو اور میں تمہارے گناہ بخشتا رہتا ہوں پس تم مجھ
سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو تم (نافرمانی کر کے) میرا
کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور (تم اطاعت کر کے) مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ تمہاری
فرمانبرداری سے تم ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ اور نافرمانی کر کے تم خود ہی اپنا نقصان کرو گے میری ذات
ان سب سے بے نیاز ہے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو گزر چکے ہیں اور (جو موجودہ
ہیں)۔ اور جو قیامت تک پیدا ہوں گے یہ تمام اگر (پرہیزگاری اختیار کر کے) سب سے زیادہ متقی
شخص کے دل کی طرح پاک دل ہو جائیں (تو یہ تمہاری پاک دلی) میری مملکت اور بادشاہت میں
کسی قسم کی زیادتی نہیں کر سکے گی۔ میرے بندو! اگر! تمہارے سب کے سب جن و انس گزر چکے ہیں
(اور جو موجود ہیں) اور جو (قیامت تک) آنے والے ہیں۔ یہ تمام اگر (برائی کر کے) بدترین سیاہ
دل والے کی طرح سیاہ دل یعنی (ابلیس کی طرح ہو جائیں۔ تو یہ تمہاری (سیاہ دلی) میری مملکت اور
بادشاہت میں کسی قسم کی کمی نہیں کر سکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو
گزر چکے ہیں اور آئندہ آنے والے ہیں سب کے سب ایک مقام میں جمع ہو جائیں اور یہ سب اپنی
اپنی مراد مانگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مراد دے دوں تو میرے پاس جو بھی خزانے ہیں ان میں
(بخشش کی وجہ سے) کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ (اتنا بھی نہیں جتنا کہ ایک سوئی دریا میں ڈال کر نکالی
جائے) تو اس کے پانی میں جتنا کم کر سکتی ہے (اتنی بھی میرے خزانوں میں کمی نہیں ہوگی)۔
اے میرے بندو! صرف یہی نہیں کہ تمہارے نیک و بد اعمال کو میں جانتا ہوں بلکہ ان کا پورا
پورا بدلہ دیتا ہوں۔ پس جو شخص نیک عمل ہو تو وہ (اس نیک توفیق میں) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور
جو شخص بدعمل ہو تو وہ خود اپنی ملامت کرے (اس لئے کہ وہ اپنے نفس کے شرارت کی وجہ سے گمراہی پر
باقی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2577a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.