اردو
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر اس عورت کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان
رکھتی ہو، جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ مدت کے لئے (تنہا) سفر کرے مگر یہ کہ اس کے
ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا کوئی محرم ہو (محرم وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح
حرام ہو) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور بخاری کی روایت میں صرف تین دن کا ذکر ہے (یعنی تین دن کے سفر پر
جائے تو محرم کو ساتھ رکھے)۔
اور بزّار کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت بغیر محرم کے حج نہ کرے (یہ سن کر) ایک صحابی
نے عرض کیا یا نبی اللہ! میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے اور میری بیوی نے حج کا ارادہ کر لیا ہے تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تُو اپنی بیوی کے ساتھ حج کے لئے چلا جا۔
اور دارقطنی نے بھی ابن جریج سے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ کی ہے کہ کوئی
عورت بغیر محرم کے ہرگز حج کے لئے نہ جائے۔
اور طبرانی نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ حج کے لئے
جائے جب کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم نہ ہو۔
اور بخاری اور مسلم نے بالاتفاق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ
کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت ایک دن رات کے سفر
پر روانہ نہ ہو جب کہ اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1340a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱)قوله : ومعها أبوها إلخ : قال محب الدين الطبري:وافق أبو حنيففة في اشتراط المحرم أو الزوج أصحاب الحديث وهو قول النخعي والحسن البصري وسفيان الثوري وأبي ثور وابن حنبل وإسحاق وابن راهويه وأحد قولي الشافعي. وقال البغوي من الشافعية: القول باشتراط المحرم أولى. كذا في البناية». وقال في رد المحتار»: أي اشتراط المحرم أو الزوج في سفر هو ثلاثة أيام ولياليها، فيباح لها الخروج إلى ما دونه الحاجة بغير محرم، بحر». وروي عن أبي حنيفة وأبي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يوم واحد، وينبغي أن يكون الفتوى عليه لفساد الزمان «شرح اللباب»، ويؤيده حديث الصحيحين لا يحل لا مرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم عليها وفي لفظ لمسلم: «مسيرة ليلة»، وفي لفظ: «يوم»، لكن قال في «الفتح»: ثم إذا كان المذهب الأول فليس للزوج منعها إذا كان بينها وبين مكة أقل من ثلاثة أيام.
Note 1
ف: بنایہ میں لکھا ہے کہ علامہ محب الدین طبری نے فرمایا ہے کہ سفر میں عورت کے ساتھ محرم یا شوہر کے مشروط ہونے پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حضرات محدثین کے قول کی موافقت فرمائی ہے کہ اور ان محدثین کرام میں حضرات ابراہیم نخعی، حسن بصری، سفیان ثوری، ابن حنبل، اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ ہیں، اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول بھی یہی ہے، اور علماء شوافع میں سے امام بغوی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے عورت کے سفر کے لئے محرم کا مشروط قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔ علاوہ ازیں صدر کی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے ساتھ سفر میں محرم کے ساتھ رہنے پر دنوں کی مختلف تعداد ارشاد فرمائی ہے بعض حدیثوں میں تین دن، تین رات، بعض میں ایک دن ایک رات۔ بعض میں ایک دن اور بعض حدیثوں میں صرف ایک رات کا ذکر ہے۔ واضح رہے کہ یہ اختلاف سائلین کے سوال کے لحاظ سے ہے جیسا جس نے سوال کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ویسا ہی جواب ارشاد فرمایا، اسی کے پیش نظر قول راجح یہ ہے کہ خواہ سفر مختصر ہو یا طویل، عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے۔ چنانچہ شرح اللباب میں یہ صراحت ہے کہ فسادِ زمانہ کے لحاظ سے اسی پر فتویٰ مناسب ہے۔12