اردو
حضرت شریح سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (نفس مبیع یعنی فروخت شدنی
جائیداد میں) جو شریک ہو وہ (حق شفعہ میں) شفیع کے مقابلہ میں زیادہ حق دار ہے اور شفیع (یعنی وہ
شخص جو حق مبیع یعنی پانی اور راستہ میں ہو) ہمسایہ کے مقابلہ میں زیادہ حق دار ہے اور ہمسایہ (جو
جائیداد سے متصل رہتا ہو وہ) دوسروں کے مقابلہ میں (جو متصل نہ ہوں) زیادہ حق دار ہے۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور عبدالرزاق اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔
اور طحاوی کی ایک اور روایت میں قاضی شریح سے اسی طرح مروی ہے کہ انھوں
نے کہا کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں ایک ہمسایہ کا حق شفعہ اور دوسرا شریک (جائیداد) کا حق شفعہ۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) “Co-owner…”: Al-Hidayah says preemption is obligatory for the co-owner in the sold item, then in its rights, like water or paths, then for the neighbor. Neighbor preemption was recently addressed. [From Al-Hidayah].
Note 1
(۱) قوله: الخليط إلخ لذلك قال في الهداية»: الشفعة واجبة للخليط في نفس المبيع، ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق، ثم للجار، وثبوت شفعة الجار مضى عن قريب في هذا الباب.