اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ شفعہ صرف ٹیلوں اور باغوں (اور گھروں یعنی غیر منقولہ جائیدادوں)
میں ہے۔ اور بائع کو مناسب نہیں کہ وہ (شریک سے) اجازت لئے بغیر (اس جائیداد کو) فروخت
کرے اگر وہ چاہے تو خرید لے گا یا چاہے تو چھوڑ دے گا اس کی روایت بزّار نے اپنی مسند میں کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ اگر بائع نے (جائیداد غیر
منقولہ کو) اطلاع دیئے بغیر بیچ دی تو وہ (یعنی شریک) اس (جائیداد) کا زیادہ حق دار ہے۔
اور بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انھوں نے کہا
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر ایسی (مشترکہ) جائیداد میں جس کی تقسیم نہ ہوئی ہو
(شریک کے لئے) شفعہ کا حکم دیا ہے۔
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) “No preemption except in a house or orchard”: This indicates preemption is limited to immovable property like lands, houses, and orchards, not movables like goods or animals, per most scholars. [From Al-Marqah].
Note 2
(2) “In all undivided property”: This establishes preemption for partners in undivided property, whether divisible or not. Ash-Shafi‘i says there is no preemption in indivisible property. This hadith’s generality opposes him. Mentioning undivided property does not negate the ruling for others. [From Al-Marqah and Ibn Al-Malik].
Note 1
(۱)قوله : لا شفعة إلا في ربع أو حائط في الحديث دلالة على أن الشفعة لا تثبت إلا فيما لا يمكن نقله كالأراضي والدور والبساتين دون ما يمكن كالأمتعة والدواب، وهو قول عامة أهل العلم، هم اتفقوا على أن لا شفعة في غير العقار من الحيوان والثياب والأمتعة وسائر المنقولات. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله في كل ما لم يقسم فيه بيان ثبوت الشفعة للشريك فيما لم يقسم أعم من أن يكون يحتمل القسمة كالدور والأراضي أولا، وعند الشافعي الله لا شفعة فيما لا يحتمل القسمة، وهذا الحديث بعمومه حجة عليه، كذا ذكره ابن الملك، وفيه أيضًا أن تخصيص ما لم يقسم بالذكر لا يدلُّ على نفي الحكم عما عداه. كذا في «المرقاة».