Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3088

(اس باب میں جمرات پر کنکریاں مارنے کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں جمرات پر کنکریاں مارنے کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3088Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3659Noor 3660Noor 3661Noor 3662
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما (دسویں ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں) جمرہ اولی اور جمرہ وسطی پر رمی کے بعد بہت دیر تک ٹھہرتے اور تکبیر، تسبیح، اور تحمید فرماتے رہتے اور دعا میں مشغول رہتے (اتنی دیر ٹھہرتے جتنی دیر سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے اور چونکہ جمرہ عقبہ کے بعد رمی نہیں ہے اس لئے) جمرہ عقبہ پر رمی کے بعد وہاں نہیں ٹھہرتے (اس لئے کہ جس رمی کے بعد رمی نہیں ہے وہاں ٹھہرنا اور دعا کرنا مستحب نہیں ہے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔ اور بخاری نے بھی مرفوعاً اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دسویں ذوالحجہ کو طواف زیارت کے بعد مکہ معظمہ سے پھر منیٰ واپس تشریف لائے اور) منیٰ میں ایام تشریق کے دنوں میں قیام فرمائے اور (گیارہ و بارہ ذوالحجہ کو) آفتاب ڈھلنے کے بعد تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں اس طرح ماریں کہ ہر کنکری کے پھینکتے وقت اللہ اکبر فرماتے تھے اور پہلے اور دوسرے جمرہ پر رمی کے بعد ٹھیر جاتے اور دیر تک ٹھیرتے اور گڑگڑا کر دعا فرماتے اور تیسرے جمرہ عقبہ پر رمی فرماتے تو رمی کے بعد وہاں نہ ٹھیرتے (اس لئے کہ یہ آخری جمرہ ہے اور اس کے بعد کوئی رمی نہیں ہے)۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا منیٰ میں آپ کے قیام کے لئے کوئی سایہ دار عمارت نہ بنا دیں تو آپ نے ارشاد فرمایا نہیں منیٰ تو (ادائی مناسک کی جگہ ہے اور) اس شخص کے اونٹ بٹھانے یعنی قیام کرنے کی جگہ ہے جو یہاں پہلے پہنچے۔ اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1751 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

(1) Standing at Jamarat: The wisdom is that standing with dua' occurs where another stoning follows, marking continuation of worship. No standing after the final stoning concludes the ritual. (Al-Hidayah)

Note 2

(2) Malik's narration: This is the position of Abu Hanifah and Muhammad.

Note 3

No

(3) "No": Because Mina isn't for permanent structures - it's a worship site for all pilgrims. Building would lead to crowding. Abu Hanifah held Haram land cannot be privately owned. (Al-Maraqi)

Note 1

قوله

(۱)قوله: عند الجمرتين الأوليين إلخ الأصل فيه أن كل رمي بعده رمي يستحب فيه الوقوف والدعاء؛ لأنه في وسط العبادة، فيأتي بالدعاء فيه، وكل رمي ليس بعده رمي لا وقوف فيه؛ لأن العبادة قد انتهت. كذا في «الهداية». قاله في التعليق الممجد».

Note 2

قوله

(۲) قوله : رواه مالك : وقال محمد: بهذا نأخذ، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

Note 3

قوله

(۳) قوله : قال لا : لأن منى ليس مختصا بأحد، إنما هو موضع العبادة من الرمي وذبح الهدي والحلق ونحوها، فلو أجيز البناء فيها لأدى إلى كثرة الأبنية تأسيا به، فتضيق على الناس كذلك حكم الشوارع ومقاعد الأسواق، وعند أبي حنيفة أرض الحرم موقوفة، فلا يجوز أن يملكها أحد قاله الطيبي. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ منیٰ ادائی مناسک یعنی رمی، ذبح، حلق وغیرہ عبادتوں کے ادا کرنے کی جگہ ہے اگر یہاں عمارتیں بنائی جائیں تو حجاج کو ادائی مناسک میں د شواری ہوگی اور سڑکوں اور بازاروں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہاں رہنے کے لئے مکانات نہ بنائے جائیں اور امام اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حرم کی زمین وقف ہے اس لئے کوئی شخص اس کا مالک نہیں ہوسکتا۔ اور جب کوئی مالک نہیں ہوسکتا تو تعمیر کیسے کرسکتا ہے۔12