اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3781
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد (آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ
سے) حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو جاڑے سے بخار آنے لگا تو (ام المؤمنین فرماتی
ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ان حضرات کی بیماری کی) خبر دی تو حضور نے یہ
سن کر دعا فرمائی اے اللہ! جس طرح تو نے مکہ معظمہ کو ہمارے لئے محبوب بنایا تھا اسی طرح مدینہ
منورہ کو بھی ہمارا محبوب بنا بلکہ اس سے بھی زیادہ عزیز بنا اور (اے اللہ!) مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو
ہمارے لئے بہتر اور موافق فرما دے اور مدینہ منورہ کے پیمانوں صاع اور مُد (ناپ تول) میں برکت
عطا فرما اور جس وبائی بخار میں اہل مدینہ مبتلا ہیں اس کو یہاں سے ہٹا دے (اور ان کو شفا دے) اور
اس وباء کو جُحفہ کی طرف (جہاں یہود آباد ہیں) منتقل فرما دے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1889 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1376a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “Make Madinah beloved...”: This does not contradict the hadith where the Prophet (ﷺ) said to Makkah, “You are the most beloved land to Allah.” The prayer for increased love was to ease the Migrants’ attachment to Madinah after being compelled to leave Makkah, ensuring they did not resent it. The love here is for comfort, not superior reward. As in Al-Mirqat.
Note 1
(۱)قوله: اللهم حبب إلينا المدينة: لا ينافي هذا ما سبق أنه الله قال لمكة: إنك أحب البلاد إلي، وإنك أحب أرض الله إلى الله، وفي رواية: لقد عرفت إنك أحب البلاد إلى الله وأكرمها على الله، فإن المراد به المبالغة، أو لأنه لما أوجب الله على المهاجرين مجاورة المدينة، وترك التوطن والسكون بمكة، السكينة طلب من الله أن يزيد محبة المدينة في قلوب أصحابه؛ لئلا يميلوا بأدنى الميل غرضًا به، إذ المراد بالمحبة الزائدة الملائمة لملاذ النفس ونفي مشاقها، لا المحبة المرتبة على كثرة المثوبة، فالحيثية مختلفة. كذا في «المرقاة».