اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3783
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
کی عادت یہ تھی کہ جب (مدینہ منورہ میں) نیا پھل آتا تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
اقدس میں لاتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو اپنے دست مبارک میں لیتے تو اس طرح دعا
فرماتے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما، اور ہمارے شہر میں بھی خیر و برکت
نازل فرما اور اسی طرح ہمارے صاع اور ہمارے مُد یعنی ناپ اور تول کے پیمانوں میں بھی برکت
نازل فرما۔ اے اللہ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے خاص بندے، آپ کے دوست اور
آپ کے نبی تھے اور میں بھی آپ کا بندہ اور آپ کا نبی ہوں، تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام
نے مکہ معظمہ میں خیر و برکت کی دعا کی تھی میں بھی اسی طرح مدینہ منورہ کے لئے دعا کرتا ہوں۔
راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (اس طرح دعا فرمانے کے بعد) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خاندان کے چھوٹے بچوں کو بلاتے اور وہ پھل ان میں تقسیم فرماتے۔ اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1373a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "O Allah, bless our fruits..." Our scholars and Al-Shafi'i considered Makkah superior to Madinah, while Malik held the opposite view based on this hadith. However, we have Abdullah ibn Adi ibn Hamra's hadith where the Prophet (ﷺ) said to Makkah: "By Allah, you are the best land of Allah and most beloved to Allah." Also Ibn Abbas narrated that the Prophet (ﷺ) said to Makkah: "How pure you are as a city and how dear you are to me! Had my people not driven me out, I would not have lived anywhere else." The Prophet's prayer for Madinah was specifically regarding abundance of fruits, not absolute superiority. As mentioned in Sharh An-Nuqayah and Umdat Al-Qari.
Note 1
(۱) قوله: اللهم بارك لنا إلخ : ثم علماؤنا والشافعي فضلوا مكة على المدينة، ومالك عكس القضية لهذا الحديث، ولنا حديث عبد الله بن عدي بن حمراء، قال: رأيت رسول الله له على الحزورة، فقال: والله إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إلى الله، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت، رواه الترمذي وابن ماجه، وحديث ابن عباس ما قال: قال رسول الله الله لمكة : ما أطيبك من بلد وأحبك إلي، ولولا أن قومي أخرجوني منك ما سكنت غيرك، رواه الترمذي، وقال: حديث حسن صحيح غريب إسنادا، وأما دعاء النبي الله بمثل دعاء إبراهيم فإنما كان في الرزق من الثمرات، ولا ريب في أكثرية ثمرة المدينة، وليس هذا بسبب لأفضليتها. كذا في شرح النقاية»، وقال في عمدة القاري: فإن قلت: الاستدلال به على تفصيل المدينة على مكة ظاهر. قلت: نعم، ظاهر من هذه الجهة، ولكن لا يلزم من حصول أفضلية المفضول في شيء من الأشياء ثبوت الأفضلية على الإطلاق. فإن قلت: فعلى هذا يلزم أن يكون الشام واليمن أفضل من مكة لقوله في الحديث الآخر : اللهم بارك لنا في شامنا، وأعادها ثلاثا. قلت: التأكيد لا يستلزم التكثير المصرح به في حديث الباب، وقال ابن حزم: لا حجة في حديث الباب لهم؛ لأن تكثير البركة بها لا يستلزم الفضل في أمور الآخرة.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نئے پھلوں کو پہلے بچوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے، اس بارے میں صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل از راہِ شفقت تھا اور صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ پھل ابھی شروع ہوئے اور ہر کس و ناکس کو میسر نہیں آ سکتے اس لئے کاملین کی یہ عادت مبارک ہوتی ہے کہ میوے اور پھلوں کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے جب تک سب کو یہ میوے میسر نہ آتے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلوں کو پہلے بچوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے۔12