اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3797
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص
(میرے روضہ کی) زیارت کے ارادہ سے (مدینہ منورہ) حاضر ہو تو وہ قیامت کے دن میری پناہ میں
ہوگا اور جو شخص مدینہ منورہ کو اپنا وطن بنالے اور وہاں کی سختیوں پر صبر کرے تو میں قیامت کے دن اس
کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا اور جو شخص دونوں حرم یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں سے کسی
ایک میں انتقال کرے تو اس کا حشر قیامت کے دن امن پانے والوں میں ہوگا۔
اس کی روایت بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: "Whoever visits me..." In Fath Al-Qadir, our scholars said: "Visiting the Prophet's grave is among the most recommended voluntary acts." In Manasik Al-Farsi it states: "It is close to being obligatory for those who have the means."
Note 1
(۱) قوله : من زارني إلخ : في فتح القدير» قال مشايخنا : زيارة قبر النبي الله من أفضل المندوبات، وفي مناسك الفارسي شرح المختار: أنها قريبة من الوجوب لمن له سعة.