اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3898
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ وہ چاندی کی مڑھی ہوئی تلوار کو (چاندی کے
سکے کے بدلہ) بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جب کہ تلوار میں جو چاندی ہے اس کی قیمت
چاندی کے سکہ سے (جس کے بدلہ میں تلوار بیچی جا رہی ہو) کم ہے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی
ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صدر کی دونوں حدیثوں میں جس تجارت کا ذکر ہے اس کے جواز کی وجہ یہ ہے کہ لوہے کو جو غالب عنصر ہے درہم یعنی چاندی کے سکہ کے بدلہ بیچا جا رہا ہے اگرچہ کہ چاندی ان دونوں صورتوں میں شامل ہے لیکن چونکہ وہ جنس غالب نہیں ہے اس لئے اس میں حکم لوہے اور چاندی کی تجارت کا ہوگا اور ایسی صورت میں قیمت کی کمی یا زیادتی سے سود نہیں ہوگا۔