اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4389
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی
اپنے مسلمان بھائی کے یہاں جائے تو اس کے پاس جو کھانا ہو وہ کھا لے اور یہ نہ پوچھے کہ یہ کھانا
حلال ہے یا حرام اور وہ جو پلائے پی لے اور یہ نہ پوچھے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز اس لئے کہ ایسے
سوال سے اس کو تکلیف ہو پہنچتی ہے اور ظاہر واقعہ تو یہی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کو حلال ہی
کھلائے گا اور حلال ہی پلائے گا۔ (یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “Let him eat his food without asking, etc.”: Meaning, one should not respond to an invitation from someone whose wealth is predominantly unlawful unless informed it is lawful. Conversely, he responds unless it is evident to him that it is unlawful, as in At-Tamartashi. If a usurer or earner of unlawful wealth gifts or hosts him, and most of his wealth is unlawful, he does not accept or eat unless informed that the wealth’s source is lawful, inherited, or borrowed. If most of his wealth is lawful, there is no harm in accepting his gift or eating from it, as in Al-Mutlaqat. This is because people’s wealth rarely lacks some unlawful portion, so the predominant is considered, as is eating their food, as in Al-Ikhtiyar Sharh al-Mukhtar, cited from Al-‘Alamgiriyyah.
Note 1
ف: واضح ہو کہ جس شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کے مال کا اکثر حصہ حرام کمائی کا ہے تو ایسے شخص کی دعوت قبول نہ کی جائے ہاں اگر داعی بتائے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی کمائی حلال سے ہے تو دعوت قبول کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی غالب کمائی حلال سے ہے تو ایسے شخص کی دعوت قبول کی جائے۔ اگر کسی کے سودی کاروبار ہوں یا اس کی کمائی حرام ذرائع سے ہو ایسا شخص ہدیہ دیوے یا دعوت کرے تو ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ اس کی دعوت کھائے جب تک کہ وہ نہ بتائے کہ اس نے حلال مال سے یا قرض لے کر یہ انتظام کیا ہے۔ اور اگر کسی کا غالب مال حلال سے ہو ایسے شخص کا ہدیہ بھی قبول کیا جائے اور اس کی دعوت بھی کھائی جائے اس لئے کہ لوگوں کے اموال میں حرام کچھ نہ کچھ رہتا ہے اس لئے اعتبار غالب مال کا ہوگا اگر غالب مال حلال ہے تو حلال کا حکم لگایا جائے گا اور غالب مال حرام ہے تو حرام کا حکم لگایا جائے گا۔ یہ فتاویٰ عالمگیریہ سے ماخوذ ہے۔