اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4394
عطاء رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابن
عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک ہونے
کے لئے مقام سرف پہنچے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی بیوی ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو نہ زیادہ جنبش دو اور نہ زیادہ حرکت دو بلکہ (تعظیماً)
آہستہ آہستہ نرمی سے چلو واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت
آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں ان میں سے آپ نے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی
باری مقرر نہیں فرمائی تھی۔
عطا فرماتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین جن کی باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر نہیں
فرمائی ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ بی بی صفیہ تھیں، جن کا انتقال مدینہ منورہ میں (ساری) امہات
المؤمنین کے بعد ہوا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
رزین نے کہا کہ عطا کے علاوہ دوسرے محدثین نے یوں کہا ہے کہ وہ ام المؤمنین (جن کی
باری مقرر نہیں فرمائی گئی وہ) بی بی سودہ تھیں اور یہی قول صحیح ترین قول ہے۔
بی بی سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخش دی تھی جبکہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا، انہوں نے عرض کیا آپ مجھے طلاق نہ
دیجئے اپنے نکاح میں رکھئے تاکہ میں جنت میں آپ کی بیویوں میں شامل رہوں اور میں اپنی باری
بی بی عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5067 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1465a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.