اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4682
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا
کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا میں (میری توبہ، قبول ہونے کے شکرانہ میں) اللہ اور اس
کے رسول کے لئے اپنے مال کو صدقہ 1 کروں۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا اپنا کچھ مال روک لو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا میرا وہ حصہ جو مجھے خیبر میں ملا
ہے 2 میں اس کو روک لیتا ہوں۔ (متفق علیہ، یہ طویل حدیث کا ایک حصہ ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2757 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2769a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: “Charity to Allah and His Messenger”: This indicates that intending to draw closer to other than Allah as a secondary matter in worship does not harm, provided the primary intent is to draw closer to Allah. [Stated by As-Sindhi]
Note 2
(2) The statement: “Then I will retain my share in Khaybar”: Meaning from real estate and other things. It is stated in “Umdat al-Qari”: Vows are of two types: a vow of piety and a vow of obstinacy. The first is divided into two: the first is what is initiated to draw closer, such as saying: “It is upon me to fast such-and-such” absolutely, or “to fast in gratitude if Allah heals my sick person,” or the like. It is said: There is consensus on its validity in both cases. Some Shafi’is said in the second case it does not form. The second is what is suspended to draw closer, such as saying: “If so-and-so returns from his journey, it is upon me to fast such-and-such.” This is binding by consensus. A vow of obstinacy is also divided into two: the first is its suspension on a forbidden act or neglecting an obligation, which does not form. The second is what is suspended on a permissible act, neglecting a recommended act, or something contrary to what is preferable. There are three opinions among scholars: fulfillment, expiation of an oath, or the choice between them according to Shafi’is. According to Malikis, it does not form at all. According to Hanafis, expiation of an oath is required in all cases. It is stated in “Al-Muswi”: If a man swears by giving his wealth as charity or says: “My wealth is for the cause of Allah,” some said: He must offer the expiation of an oath, and it is a vow of obstinacy, and this is Shafi’i’s view. Malik said: He gives one-third of his wealth. Abu Hanifah said: This applies to everything subject to zakat from its essence, excluding what is not subject to zakat, such as real estate, animals, and the like. It is stated in “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar”: If he says: “My wealth is charity for the poor,” and he has no wealth, it is not valid by consensus. If he has wealth, it is valid, and it is understood as referring to the type of wealth subject to zakat by istihsan, whether it reaches the nisab or not, whether he has overwhelming debt or not. If he has nothing else, he retains enough for his sustenance. If he acquires more, he gives charity equivalent to what he retained. Its verification is that their disagreement is extensive regarding the interpretation of wealth. Ibn Abdul Barr and others said: In the language of the Daws tribe, Abu Hurayrah’s tribe, wealth excludes currency, such as goods and clothes. According to a group, wealth is currency, such as gold and silver specifically. Mutarrizi narrated that wealth is the silent, like gold and silver, and the speaking. Qali narrated from Thalab that he said: Wealth among the Arabs is at least what is subject to zakat, and what is less than that is not called wealth. Ibn Sayyidah said in “Al-Areez”: The Arabs do not apply the term wealth absolutely except to camels, due to their nobility and great utility. He said: Sometimes they apply it to all types of livestock, and some apply it to everything a person owns, due to Allah’s statement, the Exalted: And do not give the foolish your wealth (An-Nisa: 5), which does not specify anything over another. This is the choice of many later scholars. Thus, it is clear that Bukhari chose one opinion, saying: The conclusion is that wealth applies to everything owned. Similarly, Abu Hanifah chose one opinion, saying: If one swears or vows to give all his wealth as charity, his oath and vow apply only to what is subject to zakat specifically. [Taken from “Umdat al-Qari”]
Note 1
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ نذر ایسے مال میں ہے جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے اور جس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اس میں نہیں ہے۔ جیسے زمین، جانور اور اس جیسی چیزیں۔
Note 2
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا روزہ رکھوں گا یا یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بیمار کو شفاء عطا فرمائی تو میں اس کے شکریہ میں روزہ رکھوں گا یا اس جیسی اور کوئی بات کہے۔ کہا گیا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں نذر کے درست ہونے پر اتفاق ہے۔ بعض علماء شافعیہ کے پاس دوسری صورت میں نذر منعقد نہیں ہوتی۔ 2۔ نذر تبرر کی دوسری قسم وہ ہے جس میں عمل تقرب کو معلق رکھا گیا ہو۔ مثلاً اگر فلاں صاحب سفر سے آ جائیں تو میں روزہ رکھوں گا۔ اور بالاتفاق اس نذر کو پورا کرنا لازم ہے۔ اور اسی طرح نذر لجاج کی بھی دو قسمیں ہیں۔ 1۔ وہ نذر جو حرام کام کرنے یا واجب کو چھوڑنے سے متعلق ہو۔ یہ نذر منعقد نہیں ہوتی 2۔ وہ نذر ہے جو مباح کام کرنے یا مستحب کو چھوڑنے یا خلاف اولیٰ کرنے سے متعلق ہو اس میں علماء کے تین اقوال ہیں۔ (1) قسم پورا کرنا (2) قسم کا کفارہ دینا (3) ان دونوں میں سے کسی کو بھی کرنے کا اختیار ہونا۔ یہ شافعیہ کے پاس ہے۔ مالکیہ کے پاس یہ نذر منعقد ہی نہیں ہوتی۔ اور حنفیہ کے پاس تمام صورتوں میں کفارہ یمین لازم آتا ہے۔ (انتهى) کتاب مسوی میں ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال کو صدقہ کرنے کی قسم کھائے یا یوں کہے میرا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ ہے تو بعض علماء نے کہا ہے کہ اس پر قسم کا کفارہ ہے اور یہ نذر لجاج ہے۔ اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ثلث مال کا صدقہ کرے۔ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس (نذر) کا تعلق ایسے مال سے ہوگا جن میں زکوۃ واجب ہوتی ہے، اور ایسا مال جس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی ہے جیسے زمین، جانور اور اس جیسی چیزوں سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ میرا مال مساکین میں صدقہ ہے اور اس کا کوئی مال نہیں ہے تو بالا تفاق یہ نذر درست نہیں ہے۔ اور اگر اس کا مال ہے تو درست ہو جائے گی۔ اور اس سے مراد استحساناً وہ مال ہوگا جس سے زکوۃ متعلق ہے خواہ نصاب کے برابر ہو یا نہ ہو اس پر قرض ہو یا نہ ہو۔ اور اگر اس کے پاس اس کے سوا کوئی اور مال نہیں ہے تو اپنی غذا کی ضرورت کی حد تک اس میں سے روک لے۔ اور جب اس کے پاس دوسرا مال آ جائے تو اسی مقدار میں صدقہ کرے جو اس نے روک لیا ہے۔ اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ مال کی تفسیر میں علماء کا بڑا اختلاف ہے۔ ابن عبدالبر اور۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ دوسرے علماء نے یہ فرمایا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلہ دوس کی زبان میں عین کے سوا دوسرے مال مراد ہے جیسے سامان اور کپڑے ہیں۔ اور ایک جماعت کے پاس مال سے مراد خاص کر عین سونا چاندی۔ مطرزی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ مال سے مراد صامت (غیر جاندار جیسے سونا، چاندی) اور ناطق (حیوانات) ہے اور قالی رحمۃ اللہ علیہ نے ثعلب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ عرب کے پاس مال سے مراد کم از کم اتنی مقدار ہے جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ اور اس سے کم ہو تو اس کو مال نہیں کہا جاتا۔ ابن سیدہ نے العویص میں کہا ہے کہ عرب کے پاس لفظ مال جب مطلق ہو تو اونٹوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ان کے پاس نہایت شرف کی چیز ہے اور اس میں کثرتِ ثروت ہے۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض دفعہ سارے جانوروں پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اور ان میں سے بعض حضرات مال کا اطلاق ہر اس چیز پر کرتے ہیں جو انسان کی ملکیت میں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ“ (اور کم عقلوں کو اپنا مال حوالے نہ کرو) اس میں کسی چیز کو خاص نہیں کیا گیا۔ اور یہی اکثر متاخرین کا اختیار کردہ قول ہے۔ پس اس سے یہ بات واضح ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہیں اقوال میں سے ایک قول کو اختیار کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مال ہر وہ چیز ہے جو انسان کی ملکیت ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان میں سے ایک قول کو اختیار کیا ہے۔ اور فرمایا ہے جو آدمی اپنے سارے مال کو صدقہ کرنے کی قسم کھائے یا نذر مانے تو اس کی قسم اور اس کی منت اسی مال سے متعلق رہے گی جن میں زکوۃ عائد ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری) 1۔ قولہ: اوف بنذرک: الخ (تم اپنی نذر کو پوری کرو) طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کسی معین جگہ کے لئے نذر کی جائے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ وجوب کا حکم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہوسکتا ہے۔ اور اہم یہ کہتے ہیں کہ شریعت میں یہ بات معروف ہے کہ کسی ایسی چیز کو لازم کرلینا جس میں تقرب ہو وہ وجوب کا سبب ہے۔ اور بندے کا عبادت کو کسی مقام میں مخصوص کرلینا، شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ بات تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی خاص ہے۔ بندے کا کسی تقرب کی چیز کو اپنے اوپر لازم کرلینے سے اس کی کسی خاص جگہ میں تخصیص لازم نہیں آتی لیکن جس میں تقرب ہے بس وہی چیز لازم آئیگی اور جگہ کی تخصیص لغو ہوجائے گی۔ حدیث شریف میں جو حکم ہے وہ اباحت کا ہے۔ (ماخوذ از مرقات) صاحب ردالمحتار نے کتاب الاضحیہ میں لکھا ہے: اس بات کو جانو کہ اضحیہ اس جانور کا نام ہے جس کو مقررہ خاص وقت میں ذبح کیا جاتا ہے۔ اس میں وقت کی قید لغو نہیں ہوتی۔ جب قربانی کی نذر مانے گا تو اس کو ان مقررہ اوقات میں ہی کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ نذر پوری کرنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان اوقات کے بعد اس کا نام اضحیہ نہیں ہے۔ اسی لئے جب وقت نکل جائے تو زندہ حالت میں اس جانور کو صدقہ کرنا ہوگا۔ برخلاف اس کے جب وہ کسی خاص وقت میں بکری کو ذبح کرنے کی نذر مانے تو وقت کا ذکر لغو ہوجائے گا۔ اس لئے کہ یہ نفس بکری سے ایک زائد وصف ہے۔ اسی لئے ہمارے علماء نے کسی زمانے یا جگہ کے تعین کو لغو قرار دیا ہے۔ برخلاف قربانی کے کہ اس میں وقت قربانی کے مفہوم کا ایک جز ہے لہذا اس کا اشتباہ ضروری ہے۔ اس کی ایک نظیر یہ ہے کہ اگر بکری کی ہدی پیش کرنے کی نذر مانے تو علماء نے کہا ہے کہ اس کو حرم شریف میں ذبح کرنے اور وہیں اس کو صدقہ کرنے سے اپنی ذمہ داری سے بری ہوگا (کیونکہ حدود حرم ہدی کے مفہوم کا جزو ہے)۔ اس کے ساتھ علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر فقراء مکہ پر کسی درہم کو صدقہ کرنے کی نذر مانے تو ان کے سوا کسی دوسرے پر بھی اس کو صدقہ کرنا جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدی نام ہے اس جانور کا جو کہ مکہ مکرمہ کو لیجایا جاتا ہے اور وہاں صدقہ کیا جاتا ہے۔ قربانی کے لئے وقت کی طرح سے حدود حرم ہدی کے مفہوم کا ایک جزو ہیں۔ پس اگر اس ہدی کو مکہ مکرمہ کے علاوہ کہیں اور صدقہ کرے گا تو اس کی نذر پوری نہیں ہوگی۔ اس کے برخلاف درہم کو مکہ مکرمہ میں صدقہ کرنے کی نذر کے کیونکہ جگہ دراہم کے مفہوم کا جزو نہیں ہے۔ درہم کو مکہ مکرمہ یا غیر مکہ مکرمہ کہیں بھی صدقہ کیا جائے تو وہ درہم ہی ہے۔ لیکن ہدی حدود حرم کے سوا کہیں نہیں ہوتی۔ پس اس سے نذر کے صحیح ہونے اور ایام نحر میں قربانی کے جانور کو ذبح کرنا ضروری ہونے کی وجہ ظاہر ہے۔ صاحب ردالمحتار نے فرمایا ہے اس عظیم فائدہ کو تم غنیمت جانو کیونکہ یہ میری فکری کے نتائج میں سے ہے۔ اور اس کو کسی کتاب میں دیکھا نہیں ہوں اور ساری حمد اللہ تعالیٰ کے لئے جو مالک اور خوب عطا کرنے والا ہے۔ 1 قوله قال صل ههنا الخ (فرمایا یہاں نماز پڑھ لو) فقیہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجد حرام میں دو رکعت کی جب نذر مانے اور اس سے کم شرف والے مکان میں ادا کرے یا کسی ایسے مکان میں ادا کرے جس کو کوئی شرف حاصل نہیں ہے تو بھی اس کے لئے کافی ہے۔ (مرقات) فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ ہمارے اصحاب رحمہم اللہ کے مابین اختلاف اس مسئلہ میں ہے کہ آدمی کسی معین جگہ میں روزہ رکھنے یا نماز پڑھنے کی نذر مانے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو اختیار ہے جس مقام میں چاہے روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔ (السراج الوہاج) امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے دلائل کتاب ”شرح معانی الآثار“ میں مذکور ہیں۔ رد محتار کتاب الایمان میں ہے کہ نذر غیر معلق کسی چیز کے ساتھ مختص نہیں ہوتی اور اس کی تفصیل ردالمحتار میں اس طرح ہے کہ اعتکاف یا حج یا نماز، روزہ وغیرہ کی نذر جو غیر معلق ہے اگرچہ وہ معین ہو تو وہ کسی زمانے، کسی مکان یا کسی درہم یا کسی فقیر سے مخصوص نہیں ہوتی۔ پس اگر کوئی نذر مانے کہ جمعہ کے دن مکہ مکرمہ میں اس درہم کو فلاں آدمی پر خرچ کروں گا اور اگر اس کے خلاف کیا تو بھی جائز ہے۔ اسی طرح اگر اس سے پہلے دے دیا تو۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ بھی جائز ہے۔ اور اگر کسی خاص مہینہ کو اعتکاف کے لئے یا روزہ کے لئے متعین کر لیا اور اس سے پہلے رکھ لیا تو بھی درست ہے۔ اسی طرح اگر منت مانا کہ فلاں سال حج کروں گا اور اس سے پہلے حج کر لیا تو بھی درست ہے۔ یا فلاں دن نماز پڑھوں گا اور اس سے پہلے پڑھ لیا تو بھی درست ہے۔ کیونکہ اس میں سبب یعنی نذر کے منعقد ہونے کے بعد (ادا کرنے میں) جلدی کی جا رہی ہے تو یہ تخصیص لغو ہو جائے گی۔ بخلاف نذر معلق کے کہ اس کی شرط پائے جانے سے پہلے اس کو ادا کرنا جائز نہیں فرق یہ ہے کہ نذر معلق، شرط کے پائے جانے سے پہلے فوری طور پر منعقد نہیں ہوتی جیسا کہ اصول فقہ میں ہے بلکہ شرط کے پائے جانے پر منعقد ہوتی ہے۔ اس کو اگر پہلے کرنا جائز ہو تو سبب سے پہلے مسبب کا وقوع لازم آئے گا جو درست نہیں ہے اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نذر معلق کی تعجیل کا جہاں تک تعلق ہے اس میں زمانہ متعین رہتا ہے (اس سے پہلے درست نہیں)۔ البتہ اس کو دیر سے کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں۔ اسی طرح سے اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ نذر معلق میں مکان، درہم اور فقیر کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ تعین کا اثر صرف سببیت میں ہے اس لئے اس میں وقت سے پہلے کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وقت اس میں متعین ہے اب رہا جگہ، درہم اور فقیر اس میں عدم تعین کا قاعدہ جاری ہوگا جس طرح فقیر کا تعین نہیں ہے تو اس کے تعداد کا بھی تعین نہیں ہوگا۔ فتاوی خانیہ میں ہے۔ اگر کوئی آدمی یہ کہے اگر میں اپنی بیٹی کی شادی کر دوں تو میرے مال میں سے ہزار درہم ہر مسکین کو ایک درہم کے اعتبار سے صدقہ ہے۔ اب وہ شادی کر دے اور ایک ہی مسکین کو جملہ ایک ہزار درہم دیدے تو بھی جائز ہے۔ 1قوله اذبح كبشا فانه يجزئك الخ (تم ایک دنبہ ذبح کردو۔ وہ تمہارے لئے کافی ہوجائے گا) یعنی جو آدمی اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانے تو اس کے ذمہ ایک بکری ذبح کرنا ہے۔ اور یہ حضرت خلیل اللہ علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلام کے واقعہ کی بناء پر ہے۔ اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اس نذر کو لغو قرار دیا ہے جیساکہ کوئی آدمی اپنے آپ کو قتل کرلینے کی نذر مانے، اسی طرح اپنے آپ کو یا اپنے غلام کو ذبح کرنے کی نذر مانے۔ اور حضرت امام محمد رحمہ اللہ علیہ نے ایک بکری ذبح کرنا واجب قرار دیا ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنے والد کو یا اپنے دادا یا اپنی والدہ کو ذبح کرنے کی منت مانے تو بالاتفاق وہ لغو ہے کیونکہ وہ اس کی کمائی نہیں ہیں (درمختار) ردالمختار اور ”اختیار“ میں یہ ہے کہ اگر آدمی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے یا نحر کرنے کی منت مانے تو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ اور امام محمد رحمہ اللہ علیہ کے پاس اس پر اس نذر کے بدلے ایک بکرا ذبح کردینا لازم آئے گا۔ اگر کسی آدمی نے اپنے آپ کو یا اپنے غلام کو ذبح کرنے کی منت مانی تو اس مسئلہ میں امام محمد رحمہ اللہ علیہ سے یہی روایت ہے۔ اور والد اور والدہ کو ذبح کردینے کی منت مانے تو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے پاس اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں اور اصح روایت یہ ہے کہ یہ منت درست نہیں ہے اور حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ اور امام زفر رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان میں سے کوئی نذر بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نذر گناہ کی ہے جو درست نہیں ہے اور ان دونوں کا مذہب لڑکے کو ذبح کرنے کی نذر کے مسئلہ میں، حضرت سیدنا علی مرتضیٰ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ علیہم الرضوان کا مذہب ہے۔ اور اس جیسے مسئلہ کو قیاس سے معلوم نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ ایک سماعی مسئلہ ہے کہ اس میں بچہ کو ذبح کرنے کو واجب کرلینے سے مراد بکری کو ذبح کرنا واجب کرلینا ہے یہاں تک کہ اگر بچہ کو مکہ مکرمہ میں ذبح کرنے کی نذر مانے تو بکری کو حرم شریف میں ذبح کرنا ضروری ہے۔ حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام کے واقعہ سے یہ بات ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام پر ان کے صاحبزادہ کو ذبح کرنا واجب کیا پھر ان کو ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے ”قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا“ (بلاشبہ آپ نے خواب کو سچا کردکھایا۔) ہماری شریعت میں بھی یہی حکم باقی رہے گا۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ---باقی حاشیہ---یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی بناء ہے ”ثُمَّ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا“ (پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کی ملت کی اتباع کیجئے جو حنیف ہیں)۔ یا اس لئے بھی کہ جب تک نسخ ثابت نہ ہو ہم سے پہلے کی شریعت لازم ہے اور اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف پیدل جانے کو واجب کرنے سے مراد حج یا عمرہ ہوتا ہے۔ ہدی کو واجب کرنے سے مراد بکری ذبح کرنا واجب کر لینا ہے، اور ایسی مثالیں بہت ہیں، جب بچے کو ذبح کرنے کی نذر سے مراد بکری کا ذبح کرنا ہے تو یہ نذر معصیت کی نہیں بلکہ ثواب کی ہے۔ حضرت امام اسحاق اور دوسرے علماء نے فرمایا ہے کہ اگر وہ بچہ ہی کو ذبح کرنا مراد لیا ہے جانتے ہوئے کہ یہ گناہ کا کام ہے تو ایسی صورت میں یہ نذر درست نہیں۔ اور اس کی ایک نظیر شیخ فانی کے حق میں روزہ کی ہے اس کے لئے روزہ رکھنا معصیت اور گناہ ہے۔ اس لئے کہ یہ چیز اس کے ہلاکت کا باعث ہے۔ شیخ فانی (جو اس قدر کمزور ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی موت واقع ہو جائے گی) اگر روزہ کی نذر کی نیت کرے تو نذر درست ہے اور فدیہ دینا واجب ہے۔ اس مسئلہ میں جس طرح فدیہ لازم آتا ہے اسی طرح اس میں بھی (بچہ کو ذبح کرنے کی نذر کے مسئلہ میں بھی فدیہ لازم آئے گا) اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اپنے نفس پر اور غلام پر اپنے لڑکے کے سے بڑھ کر حق تصرف حاصل ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بکری کو ذبح کرنے کا وجوب خلاف قیاس ہے کیونکہ ہم نے اس کو حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قصہ سے استدلال کر کے جانا ہے۔ اور یہ واقعہ بیٹے کے بارے میں وارد ہوا ہے جو اسی پر محدود رہے گا۔ اور اگر کوئی آدمی قتل کرنے کی نذر مانے تو بالاتفاق اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ کیونکہ نص (کتاب اللہ) میں ذبح کا لفظ ہے اور لفظ نحر، ذبح کی طرح سے ہے اور لفظ قتل ایسا نہیں ہے۔ اس لئے کہ ذبح اور نحر یہ دونوں الفاظ قرآن مجید میں تقرب اور عبادت کے طور پر آئے ہیں اور قتل کا لفظ عقوبت، انتقام اور نہی کے طور پر آیا ہے۔ قتل کے لفظ سے اگر بکری ذبح کرنے کی نذر مانے تو یہ درست نہیں ہے۔ لہذا اس مسئلہ میں بھی بدرجہ اولی درست نہیں ہوگا۔