Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 384

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(8) بَابُ آدَابِ الْخَلَاءِ (بیت الخلاء کے آداب کا بیان)

Zujajat al-Masabih 384Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 421Noor 422
عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے عمر (رضی اللہ عنہ)! کھڑے ہو کر پیشاب مت کرو، اس کے بعد سے کبھی میں نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔) شیخ امام محی السنۃ نے کہا ہے کہ صحیح حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھُور پر تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے) امام المذہب ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی روایت بھی اسی طرح ہے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ (آپ کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا) عذر کی وجہ سے تھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 224 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 273a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 308 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 12 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

urinating standing

(1) The statement "urinating standing" – The scholars state that it is disliked to urinate while standing unless there is a valid excuse. This dislike is considered to be of a discouraging nature, not a prohibition. As for the incident of the Prophet ﷺ urinating while standing at the refuse near the houses, Iyaad mentioned that it may have been due to a prolonged sitting session, which made him unable to move away for privacy. Alternatively, it could have been because of an injury to his inner knee (al-ma'baad) or due to pain in his lower back, as Arabs would use such actions for healing. Another reason could be that there was no place for him to sit, or that he did it to show that it was permissible. The full explanation is found in the book al-Diya (a commentary on legal matters), as stated in Radd al-Muhtar (a classical work of Islamic jurisprudence).

Note 1

قوله

(۱) قوله: قبال قائما : قال العلماء يكره أن يبول قائما إلا لعذر، وهي كراهة تنزيه لا تحريم. وأما بوله في السباطة التي بقرب الدور فقد ذكر عياض أنه لعله؛ طال عليه مجلس حتى حفزه البول، فلم يمكنه التباعد. اهـ أو لما روي أنه بال قائما؛ الجرح بمأبضه - بهمزة ساكنة بعد الميم وباء موحدة، وهو باطن الركبة - أو لوجع كان بصلبه، والعرب كانت تستشفي به، أو لكونه لم يجد مكانا للقعود، أو فعله بيانا للجواز، وتمامه في الضياء». قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: علماء نے کہا ہے کہ بلا عذر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے، مکروہ تحریمی نہیں ہے، عیاض نے کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھروں کے قریب گھور پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ آپ کی تشریف فرمائی دیر تک رہی اور پیشاب کا تقاضا شدید تھا، دور جانے کا موقع نہ تھا یا اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے گھٹنے کے پچھلے حصے میں درد تھا یا پشت میں درد ہونے کی وجہ سے آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، عرب لوگ اس کا علاج اس طرح کیا کرتے تھے، یا وہاں بیٹھنے کے لئے جگہ نہ تھی یا آپ نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا ہے۔ (یہ مضمون رد المحتار سے ماخوذ ہے۔)12