اردو
عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شکار پر تیر چلاتا ہوں اور دوسرے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں تو آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم یہ جانو کہ تمہارے تیر نے اس کو مار ڈالا ہے اور اس میں کسی اور درندے کا
نشان نہ دیکھو تو کھالو۔ (ابوداؤد)
صاحب بدائع نے کہا: مروی ہے کہ ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں شکار تحفہ پیش کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کو یہ کہاں سے ملا؟ تو اس نے کہا
میں اس پر کل تیر چلایا تھا اور اس کی تلاش میں تھا یہاں تک کہ مجھ پر رات چھا گئی اور مجھے اس سے
روک دی پھر میں اس کو آج پایا اور میرا تیر اس میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے وہ
غائب رہا اور کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ بعض حشرات الارض اس پر تمہاری مدد کئے ہوں، مجھے اس کی
ضرورت نہیں ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے اس کے بارے میں دریافت
کیا گیا تو انہوں نے کہا: کھاؤ وہ جس کو تم مرتے ہوئے دیکھے ہو اور چھوڑ دو اس کو جو تم سے چھپ گیا
ہو۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اصماء سے مراد جس کا مرنا دیکھا ہو اور انماء سے مراد وہ
ہے جو اس سے چھپ جائے اور ہشام نے کہا: امام محمد رحمہ اللہ سے روایت مروی ہے: اصماء سے مراد
جو تمہاری نگاہ سے نہ چھپا ہو اور انماء جو تمہاری نگاہ سے چھپ گیا ہو، مگر یہ ہے کہ اس کی تلاش میں رہنے
کو ضرورت کی بناء پر دیکھنے کے قائم مقام کر دیا گیا ہے۔ (البدائع)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2853 (unverified) 65% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4073 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 4073
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ہم کہتے ہیں: تم کو یہ بات معلوم ہو ہے کہ اس کے حلال ہونے کے لئے ایک اور شرط ہے کہ اس کی تلاش نہ چھوڑو۔