اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں جیش خبط میں شریک ہوا
اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس کے امیر بنائے گئے تھے ہم کو سخت بھوک لاحق ہوئی سمندر نے ایک ایسی
مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ اس جیسی (مچھلی) ہم نے دیکھی نہیں تھی، جس کو عنبر کہا جاتا ہے پس ہم اس میں
سے آدھے مہینے تک کھاتے رہے۔ ابوعبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں ایک ہڈی لی اور اس کے نیچے سے
ایک سوار گزر گیا، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ، اس رزق کو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا
ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ راوی نے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں
اس میں سے پیش کیا آپ ﷺ نے اس کو تناول فرمایا۔ (بخاری و مسلم)۔
مالک نے نافع سے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، اس چیز کے بارے میں جس کو سمندر باہر ڈال دیا ہے تو
انہوں نے (عبداللہ) نے ان کو اس کے کھانے سے منع کیا۔ نافع نے کہا پھر عبداللہ پلٹے اور قرآن
شریف منگوا کر یہ آیت تلاوت فرمائے:
(5-سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:96)
نافع نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عبدالرحمن بن ابوہریرہ کے پاس روانہ کیا۔
(یہ بتانے کے لیے) کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں، امام محمد رحمہ اللہ نے کہا ہم ابن عمر رضی اللہ
عنہما کا آخری قول لیتے ہیں، کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں جس کو سمندر نے پھینکا ہو، اور اس
میں سے جس سے پانی ہٹ گیا ہو اس کے سوا نہیں اس میں سے طافی (جو پانی میں مر کر پلٹ جائے)
مکروہ ہے۔ اور یہ امام اعظم ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء رحمہم اللہ کا قول ہے۔ 1
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “This is Abu Hanifah’s view, etc.”: This is the view of Jabir, Ali, Ibn Abbas, Sa’id ibn al-Musayyib, Abu al-Sha’tha, al-Nakha’i, Tawus, and al-Zuhri, as reported by Ibn Abi Shaybah, Abd al-Razzaq, and others. Al-Daraqutni and al-Bayhaqi narrated permissibility of floating fish from Abu Bakr and Abu Ayyub. Al-Shafi’i, Malik, Ahmad, and some successors adopted this, citing: “Its water is pure, its dead are lawful,” and “Two dead things are made lawful for us: fish and locusts, liver and spleen” [narrated by Ibn Majah, Ahmad, Abd ibn Humayd, al-Daraqutni, Ibn Mardawayh, and others]. Our scholars responded: The sea’s dead are what it casts out or water recedes from, attributed to the sea, not what dies naturally and floats without affliction. Thus, in “Al-Binayah” and “Al-Dirayah,” per “Al-Ta’liq al-Mumajjad.”
Note 1
(١)قوله: وهو قول أبي حنيفة إلخ: وهو قول جابر وعلي وابن عباس وسعيد بن المسيب وأبي الشعثاء والنخعيوطاوس والزهري، ذكر عنهم ذلك ابن أبي شيبة وعبد الرزاق وغيرهما، وأخرج الدارَقطني والبيهقي إباحة الطافيعن أبي بكر وأبي أيوب، وبه قال الشافعي ومالك وأحمد وبعض التابعين أخذا من إطلاق حديث: (هو الطهور ماؤه الحل ميتته)، وحديث( أحلت لنا ميتتان ودمان، أما الميتتان فالسمك والجراد، وأما الدمان فالكبد والطحال).أخرجه ابن ماجه وأحمد وعبد بن حميد والدارقطني وابن مردويه وغيرهم، وأجاب عنه أصحابنا بأن ميتة البحر مالفظه البحر أو انحسر الماء عنه؛ ليكون موته مضافا إلى البحر، لا ما مات فيه حتف أنفه من غير آفة وطفا على الماء.كذا في (البناية) و(الدراية). قاله في (التعليق الممجّد).