اردو
ابو رزین عقیلی سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا
خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے اک جزو ہے۔ اور وہ جب تک یہ اس کو بیان نہ کرے وہ
پرندے کے پیر پر رہتا ہے، جب اس کو بیان کر دے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ حضور
ﷺ نے فرمایا کہ صرف چاہنے والے سے یا عقلمند1 سے بیان کرو۔ (ترمذی)
اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا: خواب پرندہ کے پیر پر رہتا ہے جب
تک اس کی تعبیر بیان نہ کی جائے اور جب تعبیر بیان کی جائے تو واقع ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو صرف چاہنے والے یا صاحب رائے عقلمند سے بیان کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2278 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Do not narrate it except to a beloved or intelligent person”: Meaning a rational person, for they either interpret it favorably or remain silent about what is disliked. Thus, in Al-Mirqat. It is said in Al-Alamgiriyyah: If one sees a remarkable vision, they should praise Allah, the Exalted, as it is a blessing. Then, if they wish, they may narrate it to someone they trust, or they may refrain from narrating it. Thus, in Al-Wajiz lil-Kurdari.
Note 2
(٢) قوله: لا تحدث إلا حبيبا أو لبيبا: أي عاقلًا؛ فإنه إما أن يعبر بالمحبوب أو يسكت عن المكروه. قاله في (المرقاة).وقال في (العالمكيرية): وإن رأى رؤيا عجيبة حمد اللّٰه تعالى؛ لأنها نعمة، ثم إن شاء قصَّها على من يثق به، وإن شاء لميقصها. كذا في (الوجيز للكردري).
Note 1
عالمگیری میں ہے اگر اچھا خواب دیکھے تو اللہ کی تعریف کرے کیونکہ وہ ایک نعمت ہے پھر چاہے تو کسی قابل اعتماد شخص سے بیان کرے یا چاہے تو بیان نہ کرے۔ (وجیز للکردری)