اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6153
سیدنا شریح بن ہانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے ساتھ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ان کو
وہ (قوم) ابوالحکم کی کنیت سے بلا رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا:
حکم تو اللہ ہی ہے اور اسی کی طرف حکم لوٹتا ہے تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ تو اس نے کہا: کہ
میری قوم جب کسی چیز میں اختلاف کرتی ہے تو میرے پاس آتی ہے تو میں ان کے درمیان
فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق میرے حکم پر راضی ہوجاتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: یہ کتنی اچھی بات ہے تمہارے بچے کتنے ہیں تو انہوں نے کہا: میرے لڑکے شریح، مسلم
اور عبداللہ ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں بڑا کون ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض
کیا: شریح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پس تم ابو شریح ہو۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4955 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.