اردو
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایک
آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بہت
سے صحابہ موجود تھے حضرت کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یقیناً میں اس
سے اللہ کیلئے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کے علم میں یہ بات
لائے ہو، عرض کی نہیں، فرمایا: اٹھو اور ان کی طرف جاؤ اور انہیں خبر دو تو وہ اٹھے اور ان کی طرف گئے
اور ان کے سامنے اپنی محبت کا تذکرہ کیا: تو انہوں نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے جس کے لئے تم
نے مجھ سے محبت کی، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ لوٹ کر آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے
پوچھا تو انہوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا: جو کچھ انہوں نے کہا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ رہو گے جس سے تمہیں محبت ہے اور تمہارے لئے وہی ہے جس کی تم نے
نیت کی ہے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
اور ترمذی کی روایت میں ہے، آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے اسے
محبت ہے اور اس کے لئے وہی ہے جو اس 1 نے کمایا۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “what he earned”: Both wordings are close in intended meaning. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله: ما اكتسب : قال التوربشتي وكلا اللفظين قريب من الآخر في المعنى المراد منه، قال الطيبي: وذلك لأن معنى ما اكتسب كسب كسبا يعتد به، ولا يرد عليه سبب الرياء والسمعة. وهذا هو معنى الاحتساب. كذا في «المرقاة».