اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6635
حضرت ابو عبدالرحمن حُبُلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، ان سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین میں
سے نہیں ہیں؟ تو اُن سے حضرت عبداللہ نے کہا: کیا تمہاری کوئی بیوی ہے جس کے پاس تم ٹھکانہ
کرتے ہو، تو اُس نے کہا: ہاں، اُنہوں نے کہا: کیا تمہارا کوئی گھر ہے جس میں تم رہتے ہو؟ اُس نے کہا:
ہاں، اُنہوں نے کہا: پھر تم تو مالداروں1 میں سے ہو، اُس نے کہا: میرے پاس ایک خادم بھی ہے
اُنہوں نے کہا: تب تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔ عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو
کے پاس اور تین آدمی حاضر ہوئے، جبکہ میں اُن کے پاس تھا، اور اُنہوں نے کہا: اے ابومحمد! اللہ کی قسم
ہم کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے ہیں، نہ نفقہ کی، نہ چوپایہ اور نہ ساز و سامان کی، تو آپ نے اُن لوگوں
سے فرمایا: تم جو چاہتے ہو اگر تم چاہو تو ہمارے پاس پھر آؤ تو ہم تم کو اللہ تمہارے لئے جو میسر فرمایا
دیں گے، اور اگر تم چاہو تو تمہارا معاملہ سلطان سے ذکر کریں گے، اور اگر چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے
رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہاجرین فقراء روزِ قیامت مالداروں سے چالیس سال پہلے
جنت میں چلے جائیں گے۔ تب تو، ہم صبر کریں گے، کچھ نہ مانگیں گے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2979 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "Then you are among the rich" refers to the rich among the Muhajirin, as their poor had neither wife nor home. Otherwise, they are not truly rich, as Al-Karkhi stated in his summary, quoted in Al-Bada'i: There is no harm in giving zakat to someone with a home, household furnishings, a servant, a horse, weapons, clothing, or books of knowledge if they are a scholar. But if they have wealth exceeding 200 dirhams, they are prohibited from taking charity. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فأنت من الأغنياء: قال في المرقاة»: أي أغنياء المهاجرين، فإن فقرائهم ما كان لهم امرأة، ولا مسكن، وإلا فإنهم ليسوا بأغنياء؛ لأنه قال في رد المحتار» ناقلا عن البدائع»: إن الكرخي ذكر في مختصره، فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم، إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم، حرم عليه أخذ الصدقة.