اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6897
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال نکلے گا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی 1 اسکی
طرف جائے گا تو دجال کے فوجیوں کی ایک جماعت 2 اس سے ملے گی وہ لوگ کہیں گے کہ تمہارا
کہاں کا ارادہ ہے؟ تو وہ کہے گا: اس کی طرف جو نکلا ہے، آپ نے فرمایا، تو وہ لوگ کہیں گے کیا
تو ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتا تو وہ کہے گا ہمارے رب میں کوئی خفا نہیں ہے، تو وہ کہیں گے کہ
اسکو قتل کردو! تو انکے بعض بعض کو کہیں گے: کیا تمہارے رب نے تمہیں اس بات سے منع کیا کہ اسکے
بغیر کسی کو قتل کرو، تو وہ لوگ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے تو جب مومن اسکو دیکھ لے گا تو کہے گا،
اے لوگو یہ وہی دجال ہے جسکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا: آپ نے فرمایا کہ دجال اسکے
بارے میں حکم دے گا اسکو لمبا لٹا دیا جائے گا تو اور وہ کہے گا کہ اسکو پکڑو! اور زخمی کرو تو اسکا پیٹھ اور
پیٹ مار کر چوڑا کر دیا جائیگا، آپ نے فرمایا: وہ کہیگا کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لائے گا؟ فرمایا کہ وہ
آدمی کہیگا تو ہی جھوٹا مسیح ہے آپ نے فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائیگا تو اسکو آرے سے
سر کی مانگ سے چیر دیا جائے گا یہاں تک کہ اسکے دونوں پاؤں کو چیر دیا جائیگا فرمایا کہ پھر دجال
دو ٹکڑوں کے درمیان چلے گا، پھر کہے گا اس سے کھڑا ہو جا تو وہ سیدھا کھڑے ہو جائیگا، پھر وہ اس سے
کہے گا کیا تو مجھ پر ایمان لائیگا تو وہ کہے گا میری بصیرت تیرے بارے میں اور بڑھ گئی فرمایا کہ پھر وہ
آدمی کہے گا کہ اے لوگو! یقیناً میرے بعد یہ کسی کے ساتھ نہیں کر سکے گا، تو دجال اسکو ذبح کرنے کیلئے
پکڑے گا تو وہ گردن سے نخرہ تک تانبہ کا بنا دیا جائیگا، تو وہ اسکی طاقت نہیں رکھے گا۔
آپ نے فرمایا: تو وہ اسکے دونوں ہاتھ دونوں پاؤں پکڑے گا اور اسکو پھینک دے گا
تو لوگ سمجھیں گے کہ وہ اسکو آگ میں پھینکا ہے فی الحقیقت وہ جنت میں ڈال دیا گیا ہوگا، 1 تو نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رب العالمین کے پاس سب سے بڑا شہید ہوگا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2938a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement: “a man from the believers”: Abu Ishaq Ibrahim ibn Sufyan, the narrator of Sahih Muslim, said: It is said this man is Al-Khidr. Ma’mar said the same. This implies Al-Khidr is alive. Scholars differ on this: the majority of jurists, hadith scholars, and others, and some Sufis, say he has died. Most Sufis and some jurists and others say he is alive. An-Nawawi said: The latter is correct, as mentioned by Sheikh al-Jazari. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “the Dajjal’s scouts”: Raised as a substitute. His statement: “Do you not believe in our lord?” refers to the Dajjal, as they found with him status and wealth. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: “he will have been thrown into paradise”: It is possible he throws him into his fire, and Allah makes it paradise for him, as He made it cool and safe for Ibrahim. That fire becomes a garden and paradise. In any case, no death occurs by his hand except as mentioned before. The narrator’s statement: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘This is the greatest of people in martyrdom before the Lord of the worlds’” refers to his first killing. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: رجل من المؤمنين: قال أبو إسحاق إبراهيم بن سفيان الفقيه راوي صحيح مسلم): يقال: إن هذا الرجل الخضر ، وكذا قال معمر. وهذا يقتضي أن يكون الخضر حيا، وقد اختلف العلماء في ذلك فالجمهور من الفقهاء والمحدثين وغيرهم وبعض الصوفية على أنه مات. وذهب جمهور الصوفية وبعض الفقهاء وغيرهم إلى أنه حي، قال النووي : وهو الصحيح، ذكره الشيخ الجزري. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : مسالح الدجال مرفوع على الإبدال. وقوله أو ما تؤمن بربنا يعنون به الدجال حيث وجدوا عنده الجاه والمال. كذا في المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: إنما ألقى في الجنة: يمكن أنه يرميه في النار التي معه، ويجعلها الله عليه جنة كما سبق بردا وسلاما على إبراهيم ، وتصير تلك النار روضة وجنة، وعلى كل تقدير فلم يحصل له موت على يده سوى ما تقدم. وأما قول الراوي فقال رسول الله : هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين». فالمراد بها قتله الأول. كذا في «المرقاة».