اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6972
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ ہم رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، پس آپ مسکرائے آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کس وجہ1 سے
میں مسکرا رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ہم نے عرض کیا اللہ اور اسکے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے
فرمایا: بندے کے اپنے رب سے عرض معروض کرنے پر وہ کہے گا اے میرے رب! کیا تو نے مجھکو
ظلم سے امان نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فرمائیگا کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: پس
وہ کہے گا بے شک میں اپنے آپ پر، روا نہیں رکھتا مگر مجھ میں سے ہی گواہ کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: پس وہ فرمائیگا، آج تجھ پر گواہی دینے کیلئے تیرا نفس اور کراماً کاتبین کافی ہیں، آپ نے
فرمایا: پس اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا بولو آپ نے فرمایا: پس وہ اس کے
اعمال کو بیان کریں گے پھر اس کے اور کلام (گفتگو) کے درمیان تنہا چھوڑ دیا جائے گا، آپ نے فرمایا:
چنانچہ وہ کہے گا تمہارے لئے دوری ہو اور پھٹکار ہو میں تو تمہارے ہی لئے جھگڑتا تھا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2969 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Why I laughed”: This implies that laughter is only appropriate for something strange or a remarkable wisdom. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : مما أضحك : فيه إيماء إلى أنه لا ينبغي الضحك إلا لأمر غريب وحكم عجيب. كذا في «المرقاة».