Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5344

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5344Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6974
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ1 پیش کئے جائیں گے، لیکن دو پیشیاں وہ بحث و مباحثہ اور عذروں کو پیش کرنے کے لئے ہیں، البتہ تیسری پیشی تو اسوقت ہاتھوں میں صحیفے آ کر پہنچ جائیں گے، تو ان میں بعض اپنے دائیں ہاتھ میں لینے والے ہیں1 اور بعض اپنے بائیں ہاتھ میں لینے والے ہیں، اسکو احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور انہوں نے (صاحب ترمذی) نے کہا: یہ حدیث صحیح نہیں ہے اسوجہ سے کہ حضرت حسن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماعت نہیں کی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2426 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Three presentations

(1) His statement: “Three presentations”: Meaning three times. In the first, they defend themselves, saying: “The prophets did not convey to us,” and argue with Allah, the Exalted. In the second, they confess and make excuses, saying: “Everything I did was by mistake, error, ignorance, or hope,” and so on. This is the meaning of his statement: “The first two are arguments and excuses.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Some taking with their right and some with their left

(2) His statement: “Some taking with their right and some with their left”: The “fa” is explanatory, meaning some take with their right, who are the people of felicity, and some with their left, who are the people of misery. At that time, their fates are settled according to their beginnings, and the people of misguidance are distinguished from the people of guidance. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ثلاث عرضات بفتحتين، قيل : أي ثلاث مرات، فأما المرة الأولى فيدفعون عن أنفسهم، ويقولون: لم يبلغنا الأنبياء، ويحاجون الله تعالى، وفي الثانية يعترفون ويعتذرون بأن يقول: كل فعلته سهوا وخطأ وجهلا ورجاء ونحو ذلك. وهذا معنى قوله : «فأما عرضتان فجدال ومعاذير». كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فأخذ بيمينه وآخذ بشماله الفاء تفصيلية، أي فمنهم آخذ بيمينه، وهو من أهل السعادة، ومنهم آخذ بشماله، وهو من أهل الشقاوة، فحينئذ تتم قضيتهم على وفق البداية، ويتميز أهل الضلالة من أهل الهداية. كذا في «المرقاة».

Note 1

ملا علی قاری رحمہ الباری نے کہا: یعنی اسکی سند منقطع ہے متصل نہیں ہے، لیکن شیخ جزری نے ”تصحیح المصابیح“ میں کہا کہ امام بخاری نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں امام حسن کی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی تین احادیث تخریج کی اور ان کو بیان کیا ہے اور انہوں نے یہ فرمایا کہ مگر امام مسلم نے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کوئی حدیث بیان نہیں کی، اسی (قول) کو میرک نے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: امام مسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان نہ کرنے سے اسی حدیث کی سند کا صحیح نہ ہونا لازم نہیں آتا؛ کیونکہ بخاری کی شرط کہ ملاقات کا ثابت ہونا اگرچہ کہ وہ ایک مرتبہ ہو مسلم کی شرط سے زیادہ قوی ہے اور مسلم کی شرط معاصرت ہے اور صاحب مشکوٰۃ نے کہا ہے کہ بعض نے حسن عن ابی موسیٰ روایت کیا ہے۔ ملا علی قاری نے کہا: یعنی حدیث اس طریق سے متصل ہے اور اسکو اگلی سند سے تقویت مل گئی؛ کیونکہ صاحب مشکوٰۃ اپنے اسماء رجال ذکر کیا کہ حسن نے صحابہ کرام سے روایت کی ملا ابو موسیٰ انس بن مالک اور ابن عباس اور ان کے علاوہ دیگر حضرات ہیں۔