اردو
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشادِ خداوندی: فَكَانَ
قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ”(53-سورۃ النجم، آیت نمبر:9) (تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے کم فاصلہ
رہا) ”مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى“ (53-سورۃ النجم، آیت نمبر:11)(دل نے نہیں جھٹلایا جو نگاہ نے
دیکھا) اور ”لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى“ (53-سورۃ النجم، آیت نمبر:18)(یقیناً آپ نے
اپنے رب کی بڑی نشانیوں کو دیکھا) کے بارے میں اُنھوں نے فرمایا: ان سب آیتوں میں 1 یہ ذکر ہے
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا، اُنھیں چھ سو بازو تھے۔ (متفق علیہ)۔
اور ترمذی کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ما كذب
الفؤاد ما راى (دل نہیں جھٹلایا اس کو جو آپ نے دیکھا) اُنھوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کو سبز ریشم کے ایک جوڑے میں دیکھا، اُنھوں نے آسمان اور
زمین کے درمیان خلاء کو بھر دیا۔
ترمذی اور بخاری کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”لَقَدْ
رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى“ (53-سورۃ النجم، آیت نمبر:18)(یقیناً آپ نے اپنے رب کی
بڑی نشانیاں دیکھیں) اُنھوں نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز باریک ریشم دیکھا، جو آسمان
کے کنارے کو بھر دیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4856 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 174a (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4857 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.582
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “All of them refer to seeing Jibril.” Meaning all the pronouns refer to Jibril. This interpretation aligns with Aisha’s understanding of the verses, as previously noted. Some scholars said that Ibn Mas’ud was the most knowledgeable of the Companions after the four Caliphs. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: قال فيها كلها رأى جبريل : يعني الضمائر كلها راجعة إلى جبريل. وهذا التأويل مطابق وموافق لما فهمت عائشة عليهما من الآيات كما سبق التنبيه عليه، وقد قال بعض علمائنا إن ابن مسعود الله أعلم الصحابة بعد الخلفاء الأربعة. كذا في «المرقاة».