Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5473

بَابُ خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5473Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7120
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا فرمایا: تو جبریل سے کہا: جاؤ اور اس کو دیکھو، تو وہ گئے اور اس کو اور ان چیزوں کو دیکھا جسے اللہ نے اس میں رہنے والوں کے لئے تیار فرمایا ہے، پھر وہ آئے اور کہا اے رب! تیری عزت وجلال کی قسم کوئی اس کے بارے میں نہیں سنے1 گا مگر اس میں داخل ہوگا، پھر اللہ نے اسے مشقتوں، تکالیف سے گھیر دیا اور پھر فرمایا: اے جبریل جاؤ اسے دیکھو، تو وہ گئے اور اسے دیکھا پھر آئے اور کہا اے رب! تیری عزت وجلال کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کوئی اس میں داخل ہی نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبریل جاؤ اور اس کو دیکھو! آپ نے ارشاد فرمایا: جبریل گئے اور اس کو دیکھا، پھر آئے اور کہا: اے رب! تیری عزت وجلال کی قسم نہیں سنے گا کوئی اس کے بارے میں اور یہ کہ وہ اس میں داخل ہو جائے، پس اللہ اس کو شہوات سے گھیر دیا، پھر فرمایا اے جبریل! جاؤ اور اسے دیکھو آپ نے ارشاد فرمایا: جبریل گئے اور اسے دیکھا تو کہا: اے رب! تیری عزت وجلال کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی نہ رہے گا مگر وہ اس میں داخل ہو جائے گا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2560 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4744 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3762 (unverified) 95% confidence · Validation similarity: 0.469

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

No one who hears of it will fail to enter it,

(1) His statement: “No one who hears of it will fail to enter it,” meaning they will strive for it and focus only on its beauty and splendor. “Surrounded it with hardships,” meaning religious obligations, which are disliked by human souls. This indicates that meanings have tangible forms in those abodes. “No one who hears of it will enter it,” meaning they will flee from it and avoid it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يسمع بها أحد إلا دخلها : أي طمع في دخولها وجاهد في حصولها، ولا يهتم إلا بشأنها الحسنها وبهجتها. وقوله: «ثم حفها بالمكاره جمع كُره وهي المشقة والشدة على غير قياس والمراد بها التكاليف الشرعية التي هي مكروهة على النفوس الإنسانية. وهذا يدل على أن المعاني لها صور حسية في تلك المباني. وقوله: «لا يسمع بها أحد فيدخلها أي لا يسمع بها أحد إلا فزع منها واحترز، فلا يدخلها. كذا في «المرقاة».