Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5574

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

Zujajat al-Masabih 5574Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7241
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین(1) اور سب سے زیادہ سخی، سب سے زیادہ بہادر ہیں، ایک رات مدینہ والے (کسی شور کی وجہ) خوف زدہ ہوگئے اور لوگ اس آواز کی سمت دوڑے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جانب سے تشریف لاتے ہوئے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز کی طرف ان لوگوں سے پہلے آ رہے تھے، جبکہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین و بے نمدہ گھوڑے پر سوار تھے، اور یہ ارشاد فرما رہے تھے: مت گھبراؤ آپ کے گلے میں تلوار تھی، پھر فرمایا میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا۔ (بخاری، مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6033 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2307a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

the most handsome of people

(1) His statement: “the most handsome of people”: meaning in character, appearance, lineage, nobility, companionship, and association. His statement: “one night”: meaning when they heard an unfamiliar sound. His statement: “met them”: meaning the Prophet returned to them, having preceded them toward the sound. His statement: “you will not be frightened”: with a damma on the ta and ‘ayn, in the passive form of “fear” or “alarm,” meaning do not fear or be alarmed. Using the negation form emphasizes the denial, as if fear or alarm never occurred. “You will not be frightened” was repeated for emphasis or addressed to people on his right and left. In Sharh As-Sunnah: It is narrated as “you will not be frightened,” and the Arabs use “lam” and “lan” in place of “la.” Thus, it is a statement with the force of a prohibition, as At-Tibi noted. His statement: “bareback”: with a damma then sukun, meaning without a saddle. “With no saddle” is an explanation or refers to the absence of something like a cover or reins. His statement: “with a sword around his neck”: meaning slung. His statement: “I found it like a sea”: The horse was slow and sluggish, but its condition changed due to the blessing of his riding. A swift horse is likened to a sea, as its rider is at ease, like a sailor with favorable winds. Al-Nawawi said: This shows the noble qualities Allah honored him with. It includes a miracle of the horse becoming swift after being slow. It permits an individual to scout enemy news alone, provided there is no certain risk of death, the permissibility of borrowing, fighting on a borrowed horse, the desirability of wearing a sword around the neck, and reassuring people after fear subsides. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أحسن الناس : أي خلقا وخلقا وصورة وسيرة ونسبا وحسبا ومعاشرة ومصاحبة. وقوله: «ذات ليلة» أي حيث سمعوا صوتا أنكروها. وقوله: فاستقبلهم أي النبي الناس راجعا إليهم حال كونه قد سبق الناس إلى الصوت أي إلى نحوه. وقوله: لم تراعوا بضم التاء والعين مجهول من الروع بمعنى الفزع والخوف، أي لم تخافوا ولم تفزعوا، وأتى بصيغة الجحد مبالغة في النفي، وكأنه ما وقع الروع والفزع قط. لم تراعوا كرره تأكيدا أو كل الخطاب قوم من عن يمينه ويساره. وفي شرح السنة: ويروى لن تراعوا، والعرب تضع «لم» و «لن» موضع «لا» انتهى. فعلى هذا يكون خبرا في معنى النهي، ذكره الطيبي. وقوله: «عري» بضم فسكون، أي ليس عليه سرج، فقول: ما عليه سرج» بيان وتأكيد أو احتزاز من نحو جل أو لجام. وقوله: «في عنقه أي النبي سيف» أي مقلد. وقوله: ولقد وجدته بحرًا وكان بطيئا ضيق الجري، فانقلب حاله ببركة ركوبه ، ويشبه الفرس إذا كان جوادا بالبحر لاستراحة راكبه به كراكب الماء إذا كانت الريح طيبة. قال النووي: فيه بيان ما أكرمه الله تعالى به من جليل الصفات. وفيه معجزة انقلاب الفرس سريعا بعد أن كان بطيئا. وفيه جواز سبق الإنسان وحده في كشف أخبار العدو، وما لم يتحقق بالهلاك، وجواز العارية، وجواز الغزو على فرس المستعار، واستحباب تقلد السيف في العنق، وتبشير الناس بعد الخوف إذا ذهب. التقطته من المرقاة».

Note 1

(1) قوله: أحسن الناس. (لوگوں میں سب سے زیادہ حسین) یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدائش واخلاق، صورت وسیرت، حسب ونسب، زندگی گزارنے اور ساتھ رہنے ہر اعتبار سے سب سے بڑھ کر حسین ہیں، راوی کا قول ذات ليلة یعنی اس رات جب لوگ آواز سن کر گھبراگئے، راوی کا قول فاستقبلهم (تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جانب سے انہیں تشریف لاتے ہوئے ملے) یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں واپس تشریف لائے کہ آواز کی سمت آپ لوگوں سے پہلے ہی تشریف لے گئے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لم تراعوا: تاء اور راء کے ضمہ کے ساتھ لفظ روع سے مجہول ہے جو گھبرانے، خوف کرنے کے معنی میں ہے، یعنی خوف نہ کرو نہ گھبراؤ، یہ لفظ صیغہ ماضی کے ساتھ اس لئے لایا گیا کہ نفی میں مبالغہ ہو گویا خوف وگھبراہٹ آئی ہی نہیں۔ لفظ لم تراعوا تاکید کے لئے دوبارہ فرمایا، یا داہنے اور بائیں موجود لوگوں سے خطاب کے لئے فرمایا۔ شرح السنۃ میں لن تراعوا بھی مروی ہے کیونکہ اہل عرب لا کی جگہ لم اور لن استعمال کرتے ہیں انتهى۔ اس قول کی بناء پر خبر بمعنی نہی ہے جیسا کہ علامہ طیبی نے ذکر کیا۔ راوی کا قول عری پہلے حرف کو ضمہ اور بعد والے کو جزم کے ساتھ یعنی اس پر زین نہ تھا، ہم کہتے ہیں لفظ ما عليه سرج، اس کی تاکید وبیان ہے اور جُل ولجام جیسے الفاظ سے بچنا مقصود ہے۔ راوی کا قول في عنقه یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے مبارک میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان وجدته بحرا وہ گھوڑا سست رفتار کم دوڑ والا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہونے کی برکت سے اس کا حال بدل گیا اور تیز رفتار ہوگیا گھوڑا تیز رفتار ہو تو سمندر سے تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ ہوا جب ٹھنڈی ہو تو پانی پر سفر کرنے والے کو جس طرح راحت ملتی ہے اسی طرح گھوڑے پر سواری کروانے والے کو راحت ملتی ہے۔ امام نووی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عظیم الشان صفات سے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) سر فراز فرمایا اس حدیث شریف میں ان صفات کا ذکر ہے، اور اس میں گھوڑا سست رفتار ہونے کے بعد اس کو تیز رفتار بنانے کے معجزہ کا ذکر ہے، اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب تک ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو دشمن کے احوال معلوم کرنے کے لئے اکیلے سبقت کرنا اور عاریۃً کوئی چیز لینا اور عاریۃً لئے گئے گھوڑے پر غزوہ میں شریک ہونا جائز ہے، نیز گلے میں تلوار لٹکانے کا پسندیدہ ہونا اور خوف چلے جانے کے بعد لوگوں کو اس کی بشارت دینے کا استحباب معلوم ہوتا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔