اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7255
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی جسکے بارے میں فلاں
بڑا عالم ہے، کہا جاتا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ اسکے کچھ دینار تھے، اس نے نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم سے (طے شدہ مدت سے پہلے) تقاضہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس
کچھ نہیں کہ میں تجھے دوں، تو اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! جب تک کہ آپ مجھے نہ دیں میں
آپ کو نہیں چھوڑوں گا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میں تیرے ساتھ بیٹھا رہوں گا،
چنانچہ اس کے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر، عصر، مغرب، عشاء
اور صبح کی نماز ادا فرمائی(19)۔ صحابہ کرام اس کو سرزنش و تنبیہ کرنے لگے، صحابہ کرام اب اس شخص کے
ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرما لیا، تو صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ایک یہودی آپ کو روکا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے منع
فرمایا کہ میں اہل معاہدہ کافر یا کسی دوسرے کے ساتھ زیادتی کروں پھر جب دن چڑھ گیا(20)، تو
کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے
رسول ہیں، مشرف بہ اسلام ہوا اور کہا: میرے مال کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں ہے، محمد! میں نے آپ
کے ساتھ جو سلوک کیا وہ صرف اس لئے کیا تا کہ میں آپ کی ان صفات کا مشاہدہ کرلوں جو تورات
میں مذکور ہے کہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت مکہ مکرمہ ہے اور جائے ہجرت مدینہ
طیبہ ہے اور آپ کی سلطنت ملک شام تک بھی ہوگی۔ آپ سخت کلام و سخت مزاج نہ ہوں گے اور نہ
بازار میں آواز بلند کرنے والے ہوں گے اور نہ ان کے عمل میں سختی ہوگی، نہ قول میں سخت ہوں
گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ
میرا مال ہے، اس کے بارے میں آپ وہ فیصلہ فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلایا ہے، وہ یہودی
کثیر المال تھا۔ (بیہقی دلائل النبوۃ)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “prayed Zuhr, etc.”: This could be in the mosque or one of his family’s homes, the former being more likely due to his statement: “His companions were threatening him,” meaning with beating, for example, or warning him with expulsion or killing. His statement: “a covenanted person”: with a kasra on the ha, meaning a dhimmi or one granted safety. Mentioning “covenanted” first suits the context, or because their grievance is stronger on the Day of Resurrection, as it cannot be settled by taking a Muslim’s good deed or placing a sin on them, as with animals’ grievances. Perhaps the companions could not pay his debt or he would not accept their payment due to his religious stance, which is more likely. Thus, he only borrowed from others for a reason, perhaps to avoid any form of greed or benefit that reduces reward. Allah said: “Say: I do not ask you for any reward” [Al-An’am: 90]. The prophets’ tradition aligns with: “I do not ask you for any reward; my reward is only with the Lord of the worlds” [Ash-Shu’ara: 109]. This also serves as proof against the Jews, as he is described in their books as choosing poverty over wealth, making us weep for them as in Allah’s statement: “Who is it that would loan Allah a goodly loan” [Al-Baqarah: 245], and their response: “Indeed, Allah has heard the statement of those who said, ‘Allah is poor, and we are rich’” [Aal-E-Imran: 181]. Among the wisdoms is what became evident in this specific case. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “the day advanced”: meaning it rose. His statement: “neither harsh”: meaning bad-tongued. His statement: “nor rough”: meaning harsh-hearted. His statement: “nor shouting”: meaning loud. His statement: “nor adorned”: from adornment, meaning in attire or appearance, i.e., characterized. His statement: “with obscenity”: in action. His statement: “vile speech”: with an open kha, shortened, meaning obscenity and roughness. (As stated in Al-Mirqat and Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله: فصلى رسول الله الله الظهر إلخ وهو يحتمل كونها في المسجد أو في أحد بيوت أهله، والأول أظهر؛ لقوله: وكان أصحاب رسول الله الله يتهددونه، أي بالضرب مثلا ويتوعدونه، أي بالإخراج أو القتل. وقوله: معاهدا» بكسر الهاء، وهو الذمي والمستأمن، ووجه تقديم المعاهد لما يقتضيه المقام، أو لأن مخاصمته أقوى يوم القيامة؛ لأنه لا يمكن إرضاؤه بأخذ حسنة مسلم له أو وضع سيئة له على مسلم كما في مظالم الدواب. ولعل الأصحاب الله لم يكونوا قادرين على قضاء دينه أو ما كان يرضى بأدائهم مراعاة لأمر دينه، وهو أظهر، ولذا لم يكن يقرض إلا من غيرهم لحكمة، ولعلها تبرئة من نوع طمع أو صنف نفع يؤدي إلى نقصان أجر، وقد قال تعالى: ﴿ قُل لَّا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾ (الأنعام: (۹۰) وتطابقت سنة الرسل على قولهم: ﴿ وَمَا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ (الشعراء: (۱۰۹) وليكون حجة على اليهود؛ لكونه منعوتا في كتبهم بأنه يختار الفقر على الغنى، وتبكينا عليهم في قوله عند نزول قوله تعالى: ﴿ مَن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (البقرة: ٢٤٥) على ما حكى الله عنهم في قوله سبحانه: ﴿ لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران (۱۸۱)، ومن جملة الحكمة ما ظهر في خصوص هذه القضية. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ترجل : أي ارتفع، وقوله: «ليس بفظ أي سيئ اللسان. وقوله: ولا غليظ أي جافي الجنان. وقوله: «ولا سخاب أي صياح. وقوله: ولا متزي من الزي بمعنى اللباس والهيئة، أي متصف. وقوله: «بالفحش» أي في الفعل. وقوله: «الخنا» بفتح أوله مقصورا ، أي الفحش والخشونة التقطته من «المرقاة» و«اللمعات».
Note 1
(19) قوله: فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر...... الخ (پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور دوسرے دن کی چاشت ادا فرمائی) احتمال ہے کہ یہ نمازیں مسجد میں ادا ہوتی ہوں یا کسی مالک مکان کے گھر میں، پہلا قول اس قول کی وجہ سے زیادہ معتبر ہے حدیث مذکور ہے کہ صحابہ کرام اس کو زدوکوب کی تنبیہ کرنے لگے اور شہر بدر کرنے یا مار ڈالنے کی دھمکی دینے لگے۔ وقوله: مُعَاهِدًا؛ کفار کے کسی گروہ سے ذمی یا مستامن کو کہتے ہیں۔ معاہد کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مقام اس کا تقاضہ کرتا ہے یا اس لئے کہ معاہد کا جھگڑا بروز حشر زیادہ قوی ہے کیونکہ اس کو راضی کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مسلمان کی نیکی لی جائے یا اس کا گناہ مسلمان کے نامہ اعمال میں رکھا جائے جیسا کہ چوپایوں کے ظلم میں ہوتا ہے۔ شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کا قرض ادا نہیں کرسکتے تھے یا اپنے قرضہ کا کافر مانتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ادا کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے، یہی بات زیادہ بہتر ہے اس لئے بر بنائے حکمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیروں سے ہی قرض لیتے تھے۔ وہ حکمت یہ تھی کہ امت سے کسی بھی قسم کا فائدہ یا کسی بھی قسم کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہ ہونے کا اظہار مقصود ہو جو شرک ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کہہ دیجئے میں تبلیغ دین پر تم سے اجر نہیں چاہتا، تمام رسولوں کی سنت ان کے اس قول میں مطابقت رکھتی ہے کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین کے پاس ہے اور اس لئے بھی کہ یہودیوں پر حجت قائم ہوجائے کہ ان کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مالداری پر فقر اختیار فرماتے ہیں اور ان کی سرزنش بھی ہوجائے اللہ تعالیٰ کے اس کلام کے ذریعہ: ”کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے“ اس قول کی بنیاد پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ان کے قول کی حکایت کے طور پر فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا: یقیناً اللہ فقیر ہے (معاذ اللہ) اور ہم مالدار ہیں، اور منجملہ حکمت کے وہ ہے جو اس واقعہ کے خصوص میں ظاہر ہوا۔(ماخوذ از مرقات)۔ (20) قولہ: ترجل (دن چڑھ گیا) یعنی بلند ہوا، وقولہ: لیس بفظ یعنی آپ سخت کلام نہیں، قولہ: ولا غلیظ یعنی آپ سخت دل نہیں، قولہ: ولا سخاب یعنی آپ شور کرنے والے نہیں، قولہ: ولا متزی، ذی لباس وہیئت کے معنی میں یعنی بدخو نہ تھے۔ قولہ: بالفحش یعنی عمل میں فحش نہیں۔ قولہ: الخنا، خ کے فتحہ (زبر) کے ساتھ، الف مقصورہ ہے یعنی فحش اور سختی۔ (ماخوذ از: مرقات، لمعات)۔