اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7271
حضرت عمرو بن سعید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اپنے عیال پر مہربان میں نے کسی کو نہیں دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم مدینہ شریف کے قریب کسی قریہ(34) میں دودھ پینے کے لئے
لیجائے گئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم آپ کے ہمراہ ہوتے، آپ گھر
میں تشریف لے جاتے(35) جبکہ وہ گھر دھوئیں سے پر رہتا کیونکہ حضرت ابراہیم کی دایہ کے خاوند لوہار
پیتے تھے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صاحبزادہ کو لیتے اور چومتے، پھر واپس تشریف لاتے۔
حضرت عمرو نے فرمایا جب حضرت ابراہیم کا وصال ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم
میرے بیٹے ہیں، زمانہ رضاعت میں ان کا وصال ہوا اور ان کی دو دایہ ہیں جو جنت میں ان کی مدت
رضاعت کو تکمیل کریں گی۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2316 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Unnumbered commentary
His statement: “Amr said”: meaning narrating from Anas.
His statement: “he departed from this world while still nursing”: a metaphor for nursing by mentioning the place, implying the state. At-Tibi said: It means at the age of nursing or while being fed breast milk. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(1) His statement: “in the outskirts of Madinah”: plural of upper, meaning the villages on the elevated side of Madinah, such as the Quba Mosque, Banu Qurayza, and others. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement: “He would enter the house”: meaning the house where Ibrahim was. His statement: “his wet-nurse’s husband was a blacksmith”: “wet-nurse” applies to both male and female, and “blacksmith” with an open qaf. These two statements are parenthetical between the main clause, “He would enter the house,” and its coordinate, “He would take him.”
Note 1
(۱) قوله: في عوالي المدينة جمع عالية، والمراد القرى التي في جانب العلو من المدينة من مسجد قبا بني قريظة وغيرهم. كذا في اللعمات».
Note 2
(۲) قوله : فيدخل البيت أي الذي فيه إبراهيم. وقوله : كان ظئره قينا والظئر يقع على الذكر والأنثى، والقين بالفتحالحداد، ثم الجملتان حاليتان معترضتان بين المعطوف عليه، وهو قوله: فيدخل البيت والمعطوف، وهو قوله: «فيأخذه». وقوله: «قال عمرو أي ناقلا عن أنس. وقوله: «وإنه مات في الثدي وهو كناية عن الرضاع بذكر المحل وإرادة الحال. وقال الطيبي : أي في سن رضاع الثدي أو في حال تغذيه بلبن الثدي. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(34) قوله: في عوالي المدينة (مدینہ شریف کے فرازی علاقہ میں قریہ ہے) یہ عالیہ کی جمع ہے، مدینہ شریف میں مسجد قباء کے فرازی علاقہ میں بنی قریظہ وغیرہ کے قریہ مراد ہیں۔ (لمعات)۔ (35) قوله: فيدخل البيت (پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے جاتے) یعنی جس گھر میں حضرت ابراہیم (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) رضی اللہ عنہ ہیں وقولہ: كان ظئره قَيْنًا (آپ کی دایہ لوہار تھی) لفظ ظئر مذکر اور مونث کے لئے بولا جاتا ہے اور قین فتح کے ساتھ اس کا معنی لوہار ہے، دو جملے حالیہ ہیں جو معطوف علیہ کے درمیان واقع ہوئے ہیں، معطوف علیہ فيدخل لا ⟦?⟧ ہے اور معطوف فيأخذه ہے (آپ ان کو لیتے) اور راوی کا قول قال عمرو (عمرو نے کہا) حضرت انس سے نقل کرتے ہوئے اور ارشاد گرامی انه مات فى الثدى لفظ ثدی (عورت کا سینہ) ایام رضاعت سے کنایہ ہے محل ذکر کر کے حال مراد لیا گیا۔ امام طیبی نے فرمایا: عورت کے سینہ سے دودھ پینے کی عمر میں یا سینہ کے دودھ سے غذا حاصل کرنے کی حالت میں۔ (مرقات)۔