اردو
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ اس کی وجہ سے فکر مند ہو جاتے(28) اور
آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا۔
اور ایک روایت میں ہے آپ اپنا سر مبارک جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ بھی
اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی پوری ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھا لیتے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2334a (unverified) 93% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2334b (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “he was distressed”: Distress and anxiety refer to sorrow that seizes the soul. It is said: Sorrow distressed him. His statement: “When it was lifted”: This is the well-known wording in the texts, interpreted to mean the revelation was lifted from him. In some copies of Muslim, it is “cleared” with a jeem, and in others, “it became clear.” The meaning is that the revelation was removed from him and ceased. In a narration in Sharh As-Sunnah: “When it ceased.” It is said: The correct wording is “When it was lifted from him,” as stated by As-Sayyid. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : كرب لذلك الكرب والكربة الغم الذي يأخذ بالنفس، يقال: كربه الغم. وقوله: «فلما أتلي» هو المشهور في النسخ، وفسر بأن معناه ارتفع عنه الوحي. وفي بعض نسخ مسلم أجلى بالجيم. وفي بعضها «انجلى». والمعنى أزيل عنه الوحي وزال. وفي رواية شرح السنة»: «فلما أقلع». قيل : صوابه: «فلما أتلي عنه» قاله السيد.
Note 1
(28) قوله: كرب لذلك. (اس کی خاطر فکر مند ہو جاتے) کرب اور کربة وہ غم اور فکر ہے جو نفس کو گرفت کر لیتا ہے كربة الغم کہا جاتا ہے، و قوله فلما اتلى نسخوں میں یہی روایت مشہور ہے اور اسکے معنی ہے جب آپ سے وحی مکمل ہو جاتی اور مسلم کے بعض نسخوں میں لفظ انجلى جیم کے ساتھ ہے اور بعض نسخوں میں انجلى ہے سب کے معنی یہی ہیں کہ جب وہ ختم ہوتی اور وہ کیفیت زائل ہو جاتی اور شرح السنہ کی ایک روایت میں فلما اقلع ہے علامہ سید نے فرمایا: راجح قول فلما اتلى عنه ہے۔ (علامہ سید)۔