اردو
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا جب
آیت ”وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ“ (26۔ سورۃ الشعراء، آیت نمبر:214)(اور آپ اپنے
قرابت داروں کو آگاہ کر دیجئے) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور صفا پہاڑ پر چڑھے اور
آواز دینے لگے: اے بنی فہر! اے بنی عدی! ایک ایک قبائل قریش کو آواز دیتے گئے یہاں تک کہ وہ
جمع ہو گئے، اور کوئی شخص نہیں آ سکا تو وہ اپنا قاصد بھیج دیا تاکہ دیکھے وہ کیا ہے اور ابولہب اور قریش سب
آگے تو آپ نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ گھوڑ سوار فوج اس پہاڑ کے کنارے سے
نکل کر آئیگی(29)۔
اور ایک روایت میں اس وادی میں گھوڑ سوار فوج نکل کر آئیگی اور وہ تم پر حملہ
کرنا چاہتی ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں ہم نے آپ پر تجربہ نہیں کیا
مگر سچائی کا، آپ نے فرمایا: میں تم کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کر رہا ہوں۔ ابولہب نے کہا: آپ
کا برا ہو، کیا آپ نے ہم کو اسی کے لئے جمع کیا تھا تب آیت ”تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ
وَتَبَّ“۔(111۔ سورۃ اللہب، آیت نمبر:1)((ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک
ہو گیا) نازل ہوئی۔(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4770 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 208a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “emerging”: meaning appearing. His statement: “from the side of this mountain”: meaning from its direction. His statement: “before a severe punishment”: referring to punishment either in this world or the Hereafter. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: تخرج: أي تظهر. وقوله: «من صفح هذا الجبل أي من ناحيته. وقوله: بين يدي عذاب شديد» وهو إما في الدنيا أو في الآخرة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(29) قوله: تخرج۔ یعنی فوج نکل کر آ رہی ہے۔ وقوله: من صفح هذا الجبل۔ یعنی اس پہاڑ کے کنارے سے وقوله بين يدي عذاب شديد یہ عذاب یا تو دنیا میں آئیگا یا آخرت میں آئیگا۔(مرقات)۔