اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7355
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ایک کشادہ وادی(88) میں اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور پردہ کرنے کے لئے کوئی چیز نہیں پائے کہ اچانک
وادی کے کنارے دو درخت نظر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے ایک کے پاس
تشریف لے گئے اور اس کی ڈالیوں میں سے ایک ڈالی کو پکڑ کر فرمایا اے تو اللہ کے حکم سے میری
اطاعت کر تو وہ ایک نکیل والے اونٹ کی طرح جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے مطیع بن گیا
یہاں تک کہ آپ دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے اور اس کی بھی ڈالیوں میں سے ایک ڈالی کو
پکڑے اور فرمایا اے اللہ کے حکم سے تو میری اطاعت کر تو وہ بھی اسی طرح آپ کی اطاعت کیا یہاں
تک کہ آپ جب ان دونوں کے درمیان میں ہوگئے(89) تو فرمایا تم دونوں اللہ کے اذن سے مجھ پر
ایک دوسرے سے مل جاؤ تو وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے پس میں اپنے دل میں کچھ سوچتے
ہوئے بیٹھ گیا اور مجھ پر ایک خیال غالب آگیا پھر اچانک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے
دیکھا اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہوگئے ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے تنے پر
کھڑا ہوگیا۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 3012 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: wide: Meaning spacious. His statement: there were two trees: At-Tibi said: In the accusative, as in Sahih Muslim and most copies of Al-Masabih, but some have “two trees” in the nominative, which is incorrect. The accusative implies “he found two trees planted at the valley’s edge,” meaning its side. The commentator of Al-Masabih said “saw two trees,” and some copies have “with two trees.” The latter is clear. His statement: nosed: The one with a nose ring. The nosering with kasra on khā’ is a stick placed in the camel’s nose to make it more compliant. (As stated in An-Nihayah) His statement: yields to its rider: Al-Turbishti said: Meaning it complied and followed him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: in the middle: With fatḥa on mim and ṣād, half the path. Here, it means the midpoint between them. His statement: they joined: Meaning until he relieved himself between them. His statement: talking to myself: Meaning considering something. I turned: Meaning I glanced back. His statement: the two trees: Meaning he found or saw them separated, indicating two miracles. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أفيح أي واسعا. وقوله: وإذا شجرتين قال الطيبي: بالنصب كذا في صحيح مسلم» وأكثر نسخ المصابيح»، وفي بعضها: «شجرتان بالرفع، وهو مغير، فتقدير النصب فوجد شجرتين نابتين بشاطئ الوادي، أي بطرفه. وقال شارح لـ «المصابيح وري شجرتين بإضمار رأى». وفي نسخة بشجرتين». وهو ظاهر. وقوله: المخشوش. وهو الذي في أنفه، والخشاش بكسر الخاء المعجمة، وهو عويدة تجعل في أنف البعير ليكون أسرع إلى الانقياد. كذا في النهاية». وقوله: يصانع قائده قال التوربشتي: أي ينقاد له ويوافقه. التقطته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: بالمنصف : هو بفتح الميم والصاد المهملة نصف الطريق، والمراد هنا الموضع الوسط مما بينهما. وقوله: فالتأمتا» أي حتى قضى الحاجة بينهما. وقوله: أحدث نفسي أي بأمر من الأمور فحانت» أي فظهرت مني لفتة»، أي التفاته. وقوله: «وإذا الشجرتين أي وجدتهما أو رأيتهما قد افترقتا ففيه معجزتان. كذا في «المرقاة».
Note 1
(88) قوله: افيح. یعنی کشادہ وادی۔ وقوله: واذا شجرتين: علامہ طیبی نے فرمایا: شجرتین حالت نصب میں ہے اور صحیح مسلم میں اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں ایسا ہی ہے اور مصابیح کے بعض نسخوں میں شجرتان حالت رفعی میں ہے اور وہ تحریف ہے، اور حالت نصبی میں وجد محذوف ہوگا، یعنی فوجد شجرتين نابتين بشاطئ الوادي یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے کنارے دو درختوں کو پایا اور مصابیح کے ایک شارح نے فرمایا شجرتین حالت نصبی میں ہے اور رأی پوشیدہ ہے اور ایک نسخہ میں بشجرتین ہے اور حالت جری میں واضح ہے۔ وقوله: المخشوش اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کی ناک میں خشاش ہو، خشاش خاء کے زیر (کسرہ) کے ساتھ اس نکیل کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناک میں ڈالی جاتی ہے تاکہ وہ جلدی سے اطاعت کرے۔ (نہایہ میں اسی طرح ہے) قوله: يصانع قائده علامہ تورپشتی نے کہا یعنی اس کی اطاعت اور اس سے موافقت کرے۔ (ماخوذ از: مرقات)۔ (89) وقوله: بالمنصف۔ میم اور صاد دونوں کو زیر ہے، راستہ کا آدھا حصہ، یہاں اس سے مراد ان دونوں کا درمیانی حصہ ہے۔ وقوله فالتأما۔ یعنی یہاں تک کہ آپ ان دونوں کے درمیان حاجب سے فارغ ہوئے۔ وقوله: احدث نفسی یعنی میں اپنے دل میں کسی کام کے سلسلہ میں سوچ رہا تھا۔ فحانت کے معنی ہے ظہرت یعنی غالب آگیا، منی لفتة۔ التفاتة یعنی مجھ پر ایک خیال غالب آگئی۔ وقوله: واذا الشجرتین۔ یعنی میں دو درختوں کو پایا اور درختوں کو دیکھا قد افترقتا دونوں الگ الگ ہوگئے ہیں اس میں دو معجزے ہیں۔(مرقات)۔