اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7364
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا جب
خیبر فتح ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بکری تحفۃً بھیجی گئی جس میں زہر تھا تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہاں جو بھی یہودی ہیں ان کو میرے پاس جمع کرو تو وہ سب آپ کے پاس جمع
کر دیئے گئے پھر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے ایک چیز پوچھنے والا ہوں کیا
تم مجھ سے اس کے بارے میں سچ بتاؤ گے تو انہوں نے کہا ہاں اے ابوالقاسم تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے (100) تو انہوں نے کہا فلاں ہے تو آپ نے فرمایا تم جھوٹ
بولے بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے تو وہ بولے آپ نے سچ فرمایا اور ٹھیک فرمایا پھر آپ نے فرمایا اگر میں تم
سے کوئی اور چیز کے بارے میں پوچھوں تو کیا تم مجھ سے سچ بتاؤ گے تو انہوں نے کہا ہاں اے ابوالقاسم
اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں گے تو آپ ایسا ہی پہچان لیں گے جیسا آپ نے ہمارے باپ کے
بارے میں پہچان لیا تو آپ نے فرمایا دوزخ والے کون ہیں تو انہوں نے کہا ہم اس میں تھوڑے دن
رہیں گے پھر ہمارے بعد اس میں ہماری جگہ تم لوگ آئیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا دور ہو خدا کی قسم ہم اس میں کبھی تمہارے نائب نہیں بنیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم مجھ
ایک چیز کے بارے میں سچ بولو گے اگر میں تم سے اس کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے کہا: ہاں
اے ابوالقاسم! تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا تو انہوں نے کہا ہاں اے
ابوالقاسم تو آپ نے فرمایا کیا چیز تم کو اس پر آمادہ کی تو انہوں نے کہا ہم نے یہ چاہا تھا کہ اگر آپ
جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پالیں گے اور اگر آپ سچے ہیں تو یہ آپ کو ضرر نہیں پہنچائے گا۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3169 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5777 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: who is your father: Meaning your grandfather. Then you will succeed us: With ḍamma on lām and tashdid on nūn or lightened, meaning you will follow us in it. This is on their corrupt claim and false belief that it was true speech and right news. His statement: if we are relieved: Object of “we wanted,” and the conditional response is omitted due to context, meaning: If you are a liar, we are relieved of you, and if you are truthful, it will not harm you, so we benefit from your guidance. The intent is testing, meaning either we learn you are a liar and are relieved of you, or we learn you are a prophet and follow you. It shows they were liars in their claim, establishing the conclusive proof with the manifest miracle. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله من أبوكم أي جدكم، ثم تخلفونا بضم اللام وتشديد النون وتخفف أي تعقبوننا فيها. وهذا على زعمهم الفاسد واعتقادهم الكاسد، أنه قول صدق وخبر حق، وقوله: «إن نستريح» مفعول لـ«أردنا» وجزاء الشرط المتوسط بين الفعل والمفعول محذوف؛ لوجود القرينة، أي إن كنت كاذبا فنستريح منك، وإن كنت صادقا لم يضرك، فنتنفع بهدايتك، وحاصله أردنا الامتحان يعني، فأما أن نعلم أنك كاذب فنستريحمنك، وإما أن نعلم أنك نبي فنتبعك. وفيه أنه تبين من فحواهم أنهم كاذبون في دعواهم فثبت عليهم الحجة البالغة بظهور المعجزة السابغة التقطته من المرقاة».
Note 1
(100) وقوله: من ابوكم۔ یعنی تمہارا دادا کون ہیں ثم تخلفونا میں لام کو پیش نون کو تشدید ہے اور بغیر تشدید کے بھی ہے یعنی اس میں پھر ہمارے بعد تم آؤیں گے۔ یہ ان کے اس غلط خیال اور غلط عقیدہ کی بناء پر تھا کہ ان ہی کی بات پچی اور ان ہی کی ⟦?⟧ حق ہے۔ وقوله: ان تستريح۔ یہ اردنا مفعول ہے، فعل اور مفعول کے درمیان شرط کی جزاء محذوف ہے، اور اس کا قرینہ موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کاذب ہیں تو ہم آپ سے راحت پا لیں گے اور اگر آپ صادق ہیں تو یہ آپ کو ضرر نہیں پہنچائیگا اور ہم آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا امتحان مقصود تھا کہ یا تو ہمیں یہ معلوم ہو جائیگا کہ آپ جھوٹے ہیں تو آپ سے، ہم کو راحت مل جائیگی۔ یا یہ معلوم ہوگا کہ آپ نبی ہیں تو آپ کی پیروی کریں گے۔ اور اس میں اس کی وضاحت ہے کہ ان کے انداز کلام سے ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں پس اس عظیم معجزہ کے ظہور سے ان پر حجت قائم ہو گئی۔ (ماخوذ از: مرقات)۔