اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7393
حضرت ابن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ
غلام حضرت سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روم کی سر زمین میں اپنے لشکر سے (3) الگ ہو گئے یا قیدی بنائے
گئے پس وہ اپنے لشکر کو تلاش کرنے کی خاطر بھاگتے ہوئے نکلے، اچانک ان کا سامنا ایک شیر سے ہوا،
پس انہوں نے شیر سے کہا: اے ابوالحارث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں
اور میرا معاملہ ایسا ایسا ہے، پس شیر دم ہلاتا ہوا سامنے آیا اور آپ کے بازو میں آ کر کھڑا ہو گیا، جب
کبھی کوئی آواز سنتا تو اس کی طرف جاتا پھر آ کر آپ کے ساتھ چلنے لگتا یہاں تک کہ وہ لشکر تک پہنچ گئے
پھر شیر لوٹ گیا۔ (شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “missed the army”: meaning he lost his way to them. His statement “or was captured”: indicating doubt from the narrator. His statement “O Abu al-Harith”: the lion’s kunyah. His statement “such and such”: resuming to explain his situation in losing the way or serving him. Excellent companion. His statement “the lion approached him wagging its tail”: like a dog moving its tail in flattery to its owner and submission to its companion, a circumstantial clause. In An-Nihayah: A dog wags its tail when greedy or afraid, until it stood at his side. Whenever it heard: meaning the lion heard a sound, it rushed toward it to repel harm. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أخطأ الجيش: أضل طريقه بحيث لا يهتدي إليهم سبيلا. وقوله: «أو أسر» أي فيها شك من الراوي. وقوله: يا أبا الحارث» وهو كنية الأسد. وقوله: كيت وكيت استئناف بيان لحاله في إغواء الطريق، أو لكماله في خدمته، نعم الرفيق. وقوله: فأقبل الأسد له بصبصة أي تحريك ذنب كفعل الكلب تملقا إلى مالكه وتذللا لصاحبه، والجملة حال. وفي النهاية»: بصبص الكلب بذنبه إذا حركه، وإنما يفعل ذلك لطمع أو خوف حتى قام» أي الأسد إلى جنبه كلما سمع أي الأسد صوتا أهوى إليه أي قصده ليدفعه إن كان صوت أذى. كذا في «المرقاة».
Note 1
(3) قوله: أخطأ الجيش. یعنی اپنا راستہ بھٹک گئے فوج تک پہنچنے کی کوئی سبیل نہیں تھی۔ وقوله: ”أو أسر“ ’’یا قیدی بنا لئے گئے، راوی کو اس میں شک ہے۔ وقوله: يَا أَبَا الْحَارِثِ. ابوالحارث شیر کی کنیت ہے۔ وقوله: كيت وكيت. یہ یا جملہ ہے اس میں اپنا راستہ بھٹکنے کا ذکر ہے یا اس لئے کہ وہ ان کا بہترین رفیق بن کر ان کی خدمت میں رہے۔ وقوله: فاقبل الأسد له يبصبصة. (شیر دم ہلاتا ہوا آپ کی طرف بڑھا) یعنی شیر کا دم ہلانا کتے کا اپنے مالک کی وفاداری اور فرماں برداری میں دم ہلانے کی طرح تھا، اور یہ جملہ حالیہ ہے، اور نہایہ میں ہے کہ کتا اپنی دم ہلاتا ہے تو بصبص الكلب بذنبه بولتے ہیں۔ اور وہ ایسا صرف لالچ یا پھر خوف میں کرتا ہے، حتی قام یہاں تک کہ شیر آپ کے پہلو میں آ کھڑا ہوا اور جب کبھی شیر کوئی آواز سنتا تو اس کی طرف لپک پڑتا تاکہ اگر کوئی تکلیف دہ چیز کی آواز ہے تو اس کو ہٹا دے۔ (مرقات)۔