اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7421
اُنہی سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک جنازہ (27)
کی تدفین کے بعد بقیع سے میرے پاس واپس تشریف لائے تو آپ نے مجھ کو درد سر محسوس کرتا ہوا پایا
جبکہ میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میرے سر میں درد
ہے اور تمہیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے وصال کر جاؤ کیونکہ میں تمہیں غسل دوں گا، کفن دوں گا
تمہاری نماز پڑھوں گا اور تمہاری تدفین انجام دوں گا، میں عرض کی: خدا کی قسم! مجھے محسوس ہوتا ہے کہ
اگر آپ نے ایسا کر لیا تو آپ میرے کمرے میں اپنی دوسری زوجہ مطہرہ کے ساتھ آرام فرمائیں گے، تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا پھر آپ کا وہ مرض شروع ہو گیا جس میں آپ کا وصال ہوا۔(دارمی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Darimi 80 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5976 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 5976
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement “from a funeral”: meaning for the sake of a funeral, a circumstantial clause related to “returned” from Al-Baqi. His statement “and buried you”: implies that her departure during his lifetime is better than her living after his departure. Her statement “it is as if I see you”: by Allah, it is as if I envision you. At-Tibi said: The lam is a response to an omitted oath, and the mentioned phrase is parenthetical between the circumstantial clause and its subject. The meaning is: By Allah, it is as if I see you, in such and such a state. Her statement “and consummating with one of your wives”: with tashdid on the ra. In As-Sahih: A man consummates with his family when he is intimate with her; do not say “married,” as the common people say. This Hadith is evidence against linguists, unless “consummating” here means stopping to rest at the end of the night, or generally, as a metaphor for intimacy, or as a figurative expression. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) Our statement: In the explanation of Al-Majma, its author said: When Fatimah was washed, Umm Ayman, her nursemaid, washed her, and he was pleased with her. The narration of Ali washing her is understood as arranging and fully overseeing its causes. Even if the narration is established, it is specific to him. Do you not see that when Ibn Masud was questioned about it, he responded: “Do you not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Fatimah is your wife in this world and the Hereafter”? His claim of specificity proves that their position is that it is not permissible. I say: The Hadith mentioned by the commentator also indicates specificity. Some explained “cause” as Islam and piety, and “lineage” as kinship, including through marriage or fosterage. It seems to me preferable that “cause” refers to relational ties like marriage or affinity, and “lineage” to blood kinship, as the cause of Islam and piety is not severed for anyone. Thus, specificity remains in his cause and lineage. For this reason, Umar (may Allah be pleased with him) married Umm Kulthum, Ali’s daughter. As for Allah’s statement “So there will be no lineages between them” [Al-Mu’minun: 101], it is specific to lineages not benefiting in this world and the Hereafter. As for the Hadith “I will not avail you against Allah,” it means he does not possess that except as Allah grants. He benefits them through intercession by Allah’s permission, as do relatives. The full discussion is in our treatise Al-Ilm az-Zahir fi Nafi‘ an-Nasab at-Tahir. (As stated in Radd al-Muhtar)
Note 1
(۱) قوله: من جنازة: أي من أجل جنازة، فهو مفعول له من البقيع»، متعلق بـ «رجع». وقوله: «ودفنتك» فيه إيماء إلى أن موتها في حياته خير من حياتها بعد مماته. وقوله: لكأني بك أي والله لكأني متلسبة بك قال الطيبي: اللام فيه جواب قسم محذوف، والمذكور معترض بين الحال وصاحبها المعنى والله لكأني أبصر بك، والحال كيت وكيت. وقوله: فعرست فيه ببعض نسائك بتشديد الراء، ففي الصحاح : أعرس الرجل بأهله إذا بنى بها، ولا تقل: عرس والعامة تقوله اهـ. والحديث حجة على اللغويين، اللهم إلا أن يراد بالتعريس هنا النزول للاستراحة في آخر الليل، أو مطلقا على سبيل التجريد، ويكون كناية عن الجماع، أو يجعل من باب الاستعرة التبعية. التقطته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: قلنا: في شرح المجمع المصنفه فاطمة لما غسلتها أم أيمن حاضنته ، ورضي عنها، فتحمل رواية الغسل لعلي على معنى التهيئة والقيام التام بأسبابه، ولئن تثبت الرواية فهو مختص به. ألا ترى أن ابن مسعود الله لما اعترض عليه بذلك أجابه بقوله : أما علمت أن رسول الله ﷺ قال: إن فاطمة زوجتك في الدنيا والآخرة، فادعاءه الخصوصية دليل على أن المذهب عندهم عدم الجواز اهـ. قلت: ويدل على الخصوصية أيضًا الحديث الذي ذكره الشارح، وفسر بعضهم السبب فيه بالإسلام والتقوى والنسب بالأنساب، ولو بالمصاهرة والرضاع، ويظهر لي أن الأولى كون المراد بالسبب القرابة السببية كالزوجية والمصاهرة، وبالنسب القرابة النسبية؛ لأن سببية الإسلام والتقوى لا تنقطع عن أحد، فبقيت الخصوصية في سببه ونسبه ، ولهذا قال عمر رضي الله تعالى عنه : فتزوجت أم كلثوم بنت علي لذلك، وأما قوله تعالى: ﴿ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ (المؤمنون: (۱۰۱) فهو مخصوص بغير نسبه الله النافعفي الدنيا والآخرة، وأما حديث: «لا أغنى عنكم من الله شيئًا» أي أنه لا يملك ذلك إلا أن ملكه الله تعالى؛ فإنه ينفع إلا جانب بشفاعته لهم بإذن الله تعالى، فكذا الأقارب، وتمام الكلام على ذلك في رسالتنا العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر». كذا في رد المحتار».
Note 1
صاحب درمختار نے کہا: راجح قول کے مطابق شوہر کو اس کی بیوی کے غسل سے اور اس کو چھونے سے منع کیا جائے گا، اسے دیکھنے سے نہیں۔(منیہ) اور ائمہ ثلاثہ نے فرمایا: شوہر کا بیوی کو غسل دینا جائز ہے کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا، ہم کہتے (28) ہیں: یہ واقعہ زوجیت کے باقی رہنے پر محمول کیا جائے گا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر سسرالی اور نسبی رشتہ موت کی وجہ سے منقطع ہوتا ہے سوائے میرے سسرالی اور نسبی رشتہ کے؛ اسی وجہ سے اس حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں غسل دوں گا۔
Note 2
(27) قوله: من جنازة (ایک جنازے کی تدفین کے بعد) یعنی جنازے کے سبب سے، وہ مفعول لہ ہے اور ”من البقيع“ ”رجع“ سے متعلق ہے ”دفنتك“ (اور تمہاری تدفین انجام دوں گا) اس میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا وصال کرنا؛ حضور کے وصال کے بعد اُن کے باحیات رہنے سے بہتر ہے ”لكأني بك“ یعنی اللہ کی قسم! گویا میں آپ کے ساتھ گئی ہوں، علامہ طیبی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) رحمہ اللہ علیہ نے کہا: اس میں ”لام“ قسم محذوف کا جواب ہونے کی وجہ سے ہے اور مذکورہ جملہ حال اور ذوالحال کے درمیان معترضہ ہے، مطلب یہ ہے کہ: اللہ کی قسم! میں ضرور آپ کے بارے میں سمجھتی تھی جبکہ معاملہ ایسا ایسا تھا۔ فعرست فيه ببعض نسائك (تو آپ اس میں اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے ساتھ آرام فرمائیں گے) ”عرست“ راء کو تشدید سے صحاح میں مذکور ہے: اعرس الرجل باهله، مرد اپنی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کرے اور عَرَّسَ مت کہو، وہ عام لوگ کہتے ہیں اھ اور حدیث پاک اہل لغت کے خلاف حجت ہے سوائے یہ کہ تعریس سے مراد یہاں رات کے آخری حصہ میں یامُدْخُلِی بالطبع ہونے کے لئے کسی بھی وقت استراحت کی خاطر اترنا ہے اور وہ جماع سے کنایہ ہے یا اسے استعارہ تبعیہ کے باب سے قرار دیا جائے۔ (ماخوذ از مرقات) (28) قوله: قلنا (ہم کہتے ہیں) مصنف کی شرح مجمع میں مذکور ہے: فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے غسل دیا تو علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے کی روایت غسل کی تیاری اور اس کے سامان کی مکمل فراہمی پر محمول کی جائے گی اور اگر وہ روایت ثابت ہو تو یہ حکم انہی کے ساتھ خاص ہوگا کیا تم نہیں دیکھتے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب علی رضی اللہ عنہ پر اس کا اعتراض کیا تو انہوں نے ان کو یہ کہہ کر جواب دیا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقیناً فاطمہ دنیا اور آخرت میں تمہاری زوجہ ہیں، تو علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے خصوصیت کا دعویٰ ہی اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک عدم جواز ہے۔ اھ۔ میں کہتا ہوں: خصوصیت پر وہ حدیث پاک بھی دلالت کرتی ہے جسے شارح نے ذکر کیا اور بعض حضرات نے اس میں مذکور ”سبب“ کی تفسیر اسلام اور پرہیزگاری سے کی ہے اور نسب کی تفسیر انساب سے کی ہے اگرچہ وہ مصاہرت اور رضاعت کے ذریعہ ہو، اور میرے لئے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سبب سے سببی قرابت جیسے زوجیت و مصاہرت اور نسب سے نسبی قرابت مراد لینا بہتر ہے، کیونکہ اسلام اور پرہیزگاری کا سبب ہونا کسی سے منقطع نہیں رہتا، اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب و نسب میں خصوصیت باقی رہتی ہے، اس لئے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اسی وجہ سے میں نے علی رضی اللہ عنہ کی شہزادی ام کلثوم سے نکاح کیا، اب رہا اللہ تعالیٰ کا (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) فرمان ”فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ“ (23-المومنون، آیت نمبر:101)(تو ان کے درمیان کوئی نسب نہ ہوگا) تو یہ دنیا و آخرت میں فائدہ دینے والے نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے انساب کے ساتھ خاص ہے، اب رہی حدیث پاک ”میں تمہیں اللہ کے پاس کچھ کام نہیں کروں گا“ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود اس کا اختیار نہیں رکھتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا اختیار عطا فرمایا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی افراد کو ان کے حق میں اپنی شفاعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے فائدہ پہنچائیں گے تو اسی طرح قرابتداروں کا معاملہ ہے، اس سلسلہ میں مکمل بحث، ہمارے رسالہ ”العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر“ میں موجود ہے۔ (رد المحتار)