Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5839

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 5839Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7542
حضرت ابوسہلہ مولیٰ عثمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان سے چپکے سے بات کرنے لگے (32) اور حضرت عثمان کا رنگ بدل رہا تھا، پس جب یوم دار آیا تو ہم نے کہا کیا جنگ نہ کریں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امر کا عہد لیا ہے کہ میں اپنے نفس کو اس پر صابر رکھا ہوں۔ (دلائل النبوۃ بیہقی)

[Narrated by Al-Bayhaqi in Dala’il an-Nubuwwah]

Commentary and footnotes (3)

Note 1

confide

(1) His statement “confide”: with a dammah, then kasrah, then tashdid, meaning to speak secretly. His statement “entrusted me with a matter, and I am steadfast in it”: Ali al-Qari said: The covenant likely comprised not removing the caliphate and avoiding fighting to defend, but enduring patiently to reach the station of composure. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : يسر: بضم فكسر فتشديد أي يخفى الكلام. وقوله: «عهد إلي أمرا فأنا صابر نفسي عليه قال علي القاري: الأظهر أن العهد كان مركبا من عدم الخلع وترك القتال للدفع، بل لمجرد الصبر للوصول إلى مقام الجمع.

Note 1

(32) قوله: يسر. یاء کو پیش سین کو کسرہ (زیر) راء کو تشدید یعنی چپکے سے بات کرتے رہے۔ وقوله: عهد الي امرا فانا صابر نفسي عليه. حضرت ملا علی قاری نے فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ اس میں دو باتوں کا عہد تھا ایک تو خلافت سے دست بردار نہیں ہونا اور دوسرا یہ کہ مدافعت کے لئے جنگ نہ کریں بلکہ صرف صبر کرنے کا عہد تھا اس میں دونوں باتیں جمع ہیں۔