اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7551
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں اور وہ ہر ایمان والے کے یار و مددگار(3)
ہیں۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3712 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “and he is the ally of every believer”: meaning their beloved, as Ibn al-Malik said, or their supporter, as Qadi said. The Shia used this to argue for Ali’s imamate, claiming “ally” means the one in charge of affairs and entitled to manage them. At-Tibi said: The statement “and he is the ally of every believer” refers to Allah’s statement: “Your ally is none but Allah, His Messenger, and those who believe, who establish prayer and give zakat while bowing” [Qur’an 5:55]. In Al-Kashshaf, it is said: This was revealed about Ali (may Allah be pleased with him). Qadi said: After Allah forbade alliance with disbelievers, He mentioned those worthy of it. In Al-Kashshaf, it is said: If you ask how this applies to Ali when the wording indicates a plural, I say: It was phrased thus to encourage people to emulate his action to attain similar reward and to highlight that a believer’s character should strive for such zeal in goodness and charity. Al-Baydawi said: His statement “while bowing” means humble in their prayers and zakat, or it specifically applies to “give zakat,” meaning they give zakat while bowing in prayer out of zeal for charity and haste in goodness. It was revealed about Ali (may Allah honor his face) when a beggar asked him while he was bowing in prayer, and he gave him his ring. Sayyid Mu’in ad-Din as-Safawi said: What precedes the verse indicates that “alliance” does not mean authority over affairs or entitlement to manage them, as the Shia claim. Rather, it was phrased in the plural to encourage hastening to charity, including anyone who hastens to it. Thus, this verse does not prove Ali’s caliphate. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : وهو ولي كل مؤمن : أي حبيبه كما قاله ابن الملك، أو ناصره قال القاضي واستدل به الشيعة على إمامة علي ، زاعمين أن المراد بالولي المتولي للأمور والمستحق للتصرف فيهم. قال الطيبي : قوله : وهو ولي كل مؤمن إشارة إلى قوله تعالى: ﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ﴾ (المائدة: (٥٥) . وفي الكشاف»: قيل : نزلت في علي الله. قال قاضي: فالظاهر أنه تعالى لما نهى عن موالاة الكفرة ذكر عقبه من هو حقيق بها. قال أيضًا في الكشاف»: فإن قلت: كيف يصح أن يكون لعلي، واللفظ لفظ جماعة؟ قلت: جيء به ترغيبا للناس في مثل فعله لينالوا مثل ثوابه، ولينبه على أن سجية المؤمن يجب أن تكون على هذه الغاية من الحرص على البر والإحسان. قال البيضاوي: قوله: «وهم راكعون : أي متخشعون في صلاتهم وزكاتهم. وقيل: هو حال مخصوصة بـ «يؤتون» أي يؤتون الزكاة في حال ركوعهم في الصلاة حرصا على الإحسان ومسارعة إليه؛ فإنها نزلت في علي كرم الله وجهه حين سأله سائل، وهو راكع في صلاته، فطرح له خاتمة، انتهى. قال السيد معين الدين الصفوي: ما قبل الآية ينادي على أن المراد من الولاية ليس التولي للأمور، والمستحق للتصرف كما قالت الشيعة، بل ذكره بلفظ الجمع تحريضا على المبادرة على الصدقة، فيدخل فيه كل من يبادر، فلا يستدل بهذه الآية على خلافة علي الله. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(3) قوله وهو ولي كل مؤمن (اور وہ ہر ایمان والے کے یار و مددگار ہیں) یعنی اس کے محبوب ہیں جیسا کہ علامہ ابن ملک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا یا اُس کی مدد کرنے والے، جو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے کہا شیعہ نے اس روایت سے علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر یہ کہتے ہوئے غلط استدلال کیا ہے کہ ”ولی“ سے مراد معاملات کا ذمہ دار اور اس میں تصرف کرنے کا حق دار ہے۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”وهو ولي كل مؤمن“ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ”إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ“(5،المائدۃ،آیت نمبر:55)یقیناً تمہارے مددگار (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اللہ اور اس کے رسول ہیں اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اپنے رب کے سامنے) جھکنے والے ہیں۔ تفسیر کشاف میں مذکور ہے: کہا گیا کہ یہ آیت کریمہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی دوستی سے منع فرمایا تو اس کے بعد ایمان کا ذکر فرمایا جو اس کے لائق ہیں۔ صاحب کشاف نے یہ بھی کہا: اگر تم کہتے ہو کہ یہ آیت کریمہ علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کیسے ہوسکتی ہے جب کہ آیت کریمہ میں مذکور لفظ جمع کا لفظ ہے تو میں کہتا ہوں جمع کا لفظ لوگوں کو اس جیسے عمل کی رغبت دلانے کے لئے لایا گیا تاکہ وہ ویسا ہی ثواب حاصل کریں اور اس بات پر متنبہ کیا جائے کہ ایمان والے کی طبیعت نیکی اور احسان پر حرص کی اس انتہاء میں ہونی چاہئے۔ قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ارشاد الٰہی ”وَهُمْ رَكِعُونَ“ کا مطلب ہے: وہ اپنی نماز اور زکوٰۃ میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور کہا گیا کہ وہ حال ہے جو ”يُؤْتُونَ“ کے ساتھ خاص ہے یعنی وہ احسان کی حرص کرنے اور اس میں جلدی کرنے کی وجہ سے نماز میں بحالت رکوع زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ آیت کریمہ علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نازل ہوئی جب کسی مانگنے والے نے آپ سے مانگا اس وقت آپ اپنی نماز میں رکوع کررہے تھے تو آپ نے اس کے لئے اپنی انگوٹھی نکال ڈالی۔ انتہیٰ۔ علامہ سید معین الدین صفوی نے کہا: آیت کریمہ سے پہلے کا مضمون واضح طور پر بتاتا ہے کہ ولایت سے مراد معاملات کی ذمہ داری اور تصرف کا حق دار ہونا نہیں جیسا کہ شیعہ نے کہا بلکہ اُسے جمع کے لفظ سے ذکر کرنے کا مقصد صدقہ میں سبقت کرنے پر اُبھارنا ہے تو اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو سبقت سے کام لیتا ہے لہذا اس آیت کریمہ سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ماخوذ از مرقات)