اردو
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرمائی میرے گھر میں آیت
’اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ‘ (33، الاحزاب، آیت نمبر:33)(اس
کے سوا نہیں کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے اے اہل بیت! رجس کو دور رکھے) نازل ہوئی۔ فرمائیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ علی اور حسن و حسین کو بلا بھیجا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں۔ وہ
فرماتی ہیں، تو میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اہل بیت سے نہیں ہوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں(3)
ان شاء اللہ۔ (بغوی)
آیت خاص کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے متعلق نازل ہوئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ
وَالْحِكْمَةِ“ (33، الاحزاب، آیت نمبر:34) تلاوت کیا۔ اور تم یاد کرو اللہ کی ان آیات و حکمت کو جو
تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے، اور یہ قول مقاتل کا ہے۔
اور ابن جریر نے عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے وہ بازار میں اعلان
کرتے تھے کہ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج سے متعلق نازل ہوئی۔
اور ایک روایت میں ہے حضرت عکرمہ نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے
مباہلہ کر سکتا ہوں کہ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج سے متعلق نازل ہوئی ہے۔
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement “Indeed, if Allah wills”: There is disagreement about what Allah meant by “the household.” It is narrated from Ibn Abbas, Ikrimah, and Muqatil that it refers to the Prophet’s wives, as they are in his house, supported by the context of the verse and what precedes it. It is also narrated from Abu Sa’id Al-Khudri and a group of Tabi’in, including Mujahid and Qatadah, that “the household” refers to Fatimah, Ali, Hasan, and Husayn (may Allah be pleased with them), supported by the masculine pronouns “you” and “purify you” in the verse. The correct view is that it includes both the wives and Fatimah, Ali, and their sons. The context of the verse addresses the wives, as does what precedes and follows it. As for them (Fatimah, Ali, Hasan, and Husayn), it is supported by the narration in Muslim that Ali, Fatimah, Hasan, and Husayn came, and the Prophet (ﷺ) included them under a cloak, as well as other narrations outside Muslim. Even if it were revealed specifically about the wives, since they are part of his household, Fatimah, Ali, and their sons are more entitled to this designation. This is similar to the verse about the mosque founded on piety, which was revealed about the Quba Mosque, as in Bukhari, yet when asked about it, he said: “It is my mosque.” The reconciliation is that if that mosque was founded on piety, my mosque is more entitled to this designation. However, there is no evidence in the verse for the Shia’s claim of infallibility for them, as the wives are included. Even if the wives were not included, it does not indicate infallibility from sin, as purification could mean forgiveness, which is more apparent since purification implies the existence of something to be purified from. Even if conceded, as Ibn Taymiyyah responded to the Qadariyyah and Imamiyyah, it is clear that Allah’s will encompasses the faith of those on earth as His will dictates. According to the affirmers, the truth is that Allah’s will is of two types: a religious will, encompassing His pleasure and love, and a creational will, encompassing His creation and decree, as in Allah intends ease for you and does not intend hardship [Qur’an 2:185], and Allah intends to make clear to you and guide you to the ways of those before you and to accept your repentance, and Allah is Knowing, Wise [Qur’an 4:26], and Allah intends to accept your repentance, but those who follow their desires intend… [Qur’an 4:27]. The second type is as in Whomever Allah intends to guide, He expands his breast to Islam, and whomever He intends to lead astray, He makes his breast tight and constricted [Qur’an 6:125]. The verse is of the first type, and even if it is general, it does not prove the infallibility from error and sin that they claim, but rather from sin alone. (Derived from Tafsirat Al-Ahmadiyyah, Al-Khazin, and Al-Kamalin)
Note 1
(۱) قوله: بلى إن شاء الله : اختلف في أنه ما ذا أراد الله بأهل البيت فنقل عن ابن عباس وعكرمة ومقاتل أن المراد به أزواج النبي ، لأنهن في بيته، ويدل عليه سوق الآيت وسباقها، ونقل عن أبي سعيد الخدري وجماعة من التابعين منهم مجاهد وقتادة وغيرهم أن أهل البيت فاطمة وعلي والحسن والحسين الله استدل عليه بتذكير ضمير عليكم» ويطهركم». والصواب أنها يعمهن وفاطمة وعليا وابنيهما، وأما شمولها لهن، فإن سياق الكلام معهن وفيهما قبله، وكذا فيما بعده الخطاب معهن، وأما لهم فلما في «مسلم» أن عليا وفاطمة وحسنا وحسينا جاؤوا فأدخلهم النبي ان في كساء من شعر الحديث، ولما في غير مسلم من الأحاديث، ولوسلم أنها نزلت فيهن خاصة، فإذا كن من أهل بيته فعلي وفاطمة وابناهما أحق وأولى بهذه التسمية. وهذا مثل ما قالوا في مسجد أسس على التقوى: إنها نزلت في مسجد قباء كما في البخاري، ومع ذلك أنه لما سئل عنها قال: هو مسجد قباء كما في البخاري، ومع ذلك أنه له لما سئل عنها قال: هو مسجدي هذا، والتوفيق أنه إذا كان ذلك أسس على التقوى فمسجدي هذا أولى وأحرى بهذه التسمية، لكن لا دليل للشيعة في الآية على ثبوت العصمة لهم لدخول الأزواج، ولو سلم عدم دخولهن فيها فلا تدل على العصمة من الذنب؛ لأنه يجوز كون التطهير بالعفو عنها، بل هو أظهر لاقتضاء التطهير وقوع المطهر عنه، ولو سلم فنقول: كما أورده ابن تيمنية الجواب على أصل القدرية، ومنهم الإمامية ظاهر؛ فإنه تعالى قد أراد إيمان من على وجه الأرض فيما تقع مراده، وأما على أصل أهل الإثبات. فالتحقيق أن الإرادة نوعان إرادة شرعية دينية يتضمن رضاه ومحبته، وإرادة تكوينية قدرية يتضمن خلقه وتقديره الأول مثل ﴿يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ (البقرة: (۱۸۵) ، وكقوله: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٍ﴾ (النساء : ٢٦) وكقوله: ﴿وَاللهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ﴾ (النساء : (۲۷)، فإن إرادة الله في هذه الآيات متضمنة لمحبة الله ورضاه والثانية، كقوله تعالى: ﴿فَمَن يُرِدِ اللهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَام وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ، ضَيِّقًا حَرَجًا﴾ (الأنعام: (۱۲۵) والآية من قبيل الأولى ولو عم فلا يثبت بالمعنى الذي ادعوه، وهي العصمة عن الخطأ والإثم كليهما، بل عن الإثم، أخذته من التفسيرات الأحمدية» و«الخازن» و «الكمالين»
Note 1
(3) قوله: بلى انشاء الله۔ اہل بیت سے کون مراد ہیں اس میں اختلاف ہے۔ اس بارے میں حضرت ابن عباسؓ حضرت عکرمہ حضرت مقاتل سے منقول ہے اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں کیونکہ یہ آپ کے گھر میں رہتی ہیں۔ اور آیت کے سیاق و سباق سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تابعین کی ایک جماعت سے جن میں مجاہد، قتادہ اور ان کے علاوہ دوسرے شامل ہیں منقول (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ہے کہ اہل بیت سے سیدہ فاطمہ سیدنا علی اور امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین مراد ہیں۔ اور ان کا استدلال ”عَنْكُمْ“ اور ”وَيُطَهِّرَكُمْ“ کی مذکر ضمیر سے ہے۔ اور ٹھیک بات یہ ہے کہ یہ آیت ازواج مطہرات اور سیدہ فاطمہ سیدنا علی اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو شامل ہے۔ اب رہا آیت کا ازواج کو شامل ہونا اس طرح پر ہے کہ سیاق کلام ان کے ساتھ ہے اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کے کلام میں خطاب بھی ان کے ساتھ ہے۔ اور اس میں ان (چار بزرگوں) کا شامل ہونا وہ اس طرح کہ مسلم میں روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ اور حضرت امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم آئے تو آپ نے ان کو بالوں والی کمبل میں داخل کر لیا۔ (الحدیث) اور مسلم کے سوا بھی دوسرے صحابہ کی اس بارے میں روایات موجود ہیں۔ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ آیت ازواج کے لئے ہی خاص طور پر نازل ہوئی ہے تو جب وہ آپ کے اہل بیت ہوئیں، تو سیدنا علی و سیدہ فاطمہ اور ان کے دونوں صاحبزادے اس نام و نسبت کے زیادہ مستحق ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے: ”لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى“ (9، التوبہ، آیت نمبر:108) کے بارے میں کہا گیا جیسا کہ بخاری میں ہے کہ یہ آیت مسجد قبا کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کے باوجود جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ میری یہ مسجد ہے“۔ اور اس میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب وہ مسجد تقویٰ کی بنیاد پر رکھی گئی ہے تو میری یہ مسجد اس نام کی زیادہ مستحق ہے۔ اور جب اس میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں تو شیعہ کے لئے اہل بیت کے معصوم ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اور اگر ازواج مطہرات کے اس میں داخل ہونے کو تسلیم نہ بھی کریں تو اس سے ان حضرات کے معصوم ہونے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے یہ تطہیر گناہوں کو معاف کرنے کے ذریعہ ہو۔ بلکہ یہی بات راجح ہے کیونکہ تطہیر کا مفہوم بتا رہا ہے کہ مطہر عنہ سے (گناہ) کا ارتکاب ہو رہا تھا۔ اور اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے اس کے جواب میں فرقہ قدریہ کے قاعدہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا اور فرقہ امامیہ بھی ان میں شامل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام افراد کے ایمان کا ارادہ فرمایا ہے جو سطح زمین پر ہیں اب رہا اہل اثبات کے قاعدہ کے مطابق تو تحقیقی بات یہ ہے کہ ارادہ کی دو قسمیں ہیں (1) ارادہ شرعیہ دینیہ یہ اس کی رضا اور محبت کو شامل ہے (2) ارادہ تکوینیہ قدریہ یہ اس کی تخلیق و تقدیر کو شامل ہے۔ پہلے کی مثال جیسے: ”يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ“ (2، البقرۃ، آیت نمبر:185) اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے تنگی نہیں چاہتا۔ اس کی ایک دوسری مثال: ”يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ“ (4، النساء، آیت نمبر:26) اللہ چاہتا ہے تمہارے لئے بیان کرے اور تم کو ہدایت دے ان لوگوں کے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اس کی تیسری مثال: ”وَاللّٰهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ“۔ (4، النساء، آیت نمبر:27) ان آیات میں اللہ کا ارادہ اس کی محبت اور اس کی رضا کو شامل ہے۔ اور دوسرے کی مثال جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَمَنْ يُرِدِ اللّٰهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ، وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا“۔ (6، الانعام، آیت نمبر:125) اللہ جس کو ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسلام کے لئے اس کے سینہ کو کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ اور حرج والا کر دیتا ہے۔ اور حدیث شریف میں مذکور آیت پہلے ارادہ سے متعلق ہے اور اگر اس کا مفہوم عام ہو تو یہ صرف وہ جس عصمت کا دعویٰ کر رہے ہیں یعنی گناہ اور خطا دونوں سے معصوم ہونا بلکہ صرف گناہ سے معصوم ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ (ماخوذ از تفسیرات احمدیہ، خازن، ہامشین)
Note 2
صاحب تفسیرات احمدیہ نے فرمایا: امام بیضاوی کا پسندیدہ قول وہ ہے جو حضرت امام منصور ماتریدی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ”اہل بیت“ ازواج اور اولاد سب کو عام ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کے لئے مختص نہیں ہے۔