اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7610
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اس چشمہ (4) پر جس کو خُم کہا جاتا ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے خطبہ
دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور ثناء کی وعظ اور نصیحت فرمایا پھر فرمایا: اما بعد؛
سنو اے لوگو! اس کے سوا نہیں کہ میں بشر ہوں قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے
اور میں اس کو قبول کروں میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں ان دونوں میں سے پہلی چیز اللہ کی
کتاب ہے اس میں ہدایت اور نور ہے تم اللہ کی کتاب کو پکڑو اور اس کو مضبوط تھام لو آپ نے اللہ کی
کتاب پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی۔ پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت ہیں۔ تم کو میں میرے اہل بیت
کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔ میرے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں اور ایک روایت
میں ہے کتاب اللہ یہ اللہ کی رسی ہے جو شخص اس کی اتباع کیا وہ ہدایت پر ہے اور جو شخص اس کو چھوڑ دیا
وہ گمراہی پر ہے۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2408a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6131 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 6131
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement “at a place with water”: Meaning, a location with water called, or named, Khumm, with a dammah on the kha and tashdid on the mim, a place at Al-Juhfah between Makkah and Madinah. It was mentioned earlier that this was during his return from Makkah to Madinah during the Farewell Pilgrimage. The statement “messenger of my Lord”: Refers to the Angel of Death. The statement “two weighty things”: With two fathahs, meaning two great matters, named as such due to their immense significance and because adhering to them is weighty for their follower. The statement “take the Book of Allah”: Meaning, through derivation, preservation, and knowledge. The statement “hold fast to it”: Meaning, adhere to it in belief and action. Part of the Book of Allah is acting upon the Hadiths of the Messenger of Allah (ﷺ), as Allah says: And whatever the Messenger has given you, take; and whatever he has forbidden you, refrain from [Qur’an 59:7], and Whoever obeys the Messenger has obeyed Allah [Qur’an 4:80], and If you love Allah, then follow me, and Allah will love you [Qur’an 3:31]. The statement “encouraged adherence to the Book of Allah”: Meaning, to preserve it, observe its meanings, and act upon its contents. The statement “and my household”: Meaning, the second is my household. The statement “I remind you of Allah concerning my household”: Meaning, I alert you to Allah’s right in preserving, respecting, honoring, loving, and showing affection to them. The statement “in another narration”: Meaning, in place of “the first is the Book of Allah,” etc. The statement “the rope of Allah”: The Qur’an is like a rope with two ends, capable of being a means of ascent or descent, like the Nile, which is water for the beloved and blood for the veiled. He misleads many thereby and guides many thereby [Qur’an 2:26]. The Qur’an is a proof for you or against you. And We send down of the Qur’an that which is healing and mercy for the believers, but it does not increase the wrongdoers except in loss [Qur’an 17:82]. May Allah benefit us with it and elevate us through it. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: بهاء: أي بموضع فيه ماء يدعي، أي يسمى ذلك الماء أو ذلك المكان، خما بضم فتشديد، وهو موضع بالجحفة بين مكة والمدينة، وتقدم أنه كان حين رجوعه من مكة، وتوجهه إلى المدينة عام حجة الوداع. وقوله: رسول ربي المراد به ملك الموت. وقوله: «الثقلين» بفتحتين، أي الأمرين العظمين سمى كتاب الله وأهل بيته بهما لعظم قدرهما، ولأن العمل بهما ثقيل على تابعهما. وقوله: فخذوا بكتاب الله أي استنباطا وحفظا وعلما واستمسكوا به، أي تمسكوا به اعتقادا وعملا، ومن جملة كتاب الله العمل بأحاديث رسول الله ﷺ لقوله سبحانه: ﴿وَمَا وَاتَكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَلَكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ (الحشر: (۷)﴿و مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (النساء: ۸۰) و إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ﴾ (آل عمران: (۳۱). وقوله: «فحث على كتاب الله» أي على محافظته ومراعاة مبانيه ومعانيه والعمل بما فيه. وقوله: «وأهل بيتي» أي وثانيهما: أهل بيتي. وقوله: اذكركم الله في أهل بيتي والمعنى أنبهكم حق الله في محافظتهم ومراعاتهم واحترامهم وإكرامهم ومحبتهم ومودتهم. وقوله: وفي رواية أي بدل أولهما كتاب الله إلخ. وقوله : " هو حبل الله» فالقرآن كالحبل ذو وجهين يمكن أن يكون وسيلة للترقي، وأن يكون ذريعة للتنزل والتدلي كالنيل ماء للمحبوبين يمكن أن يكون وسيلة للترقي، وأن يكون ذريعة للتنزل والتدلي كالنيل ماء للمحبوبين، ودماء للمحجوبين ﴿يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كثيرا﴾ (البقرة: (٢٦) القرآن حجة لك أو عليك ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾ (الإسراء : ۸۲) نفعنا الله به ورفعنا بسببه. التقطته من «المرقاة».
Note 1
اور ملا علی قاری نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: اذكر كم الله فى اهل بيتي کے جملہ کو مکرر فرمایا، ایک سے آل مراد لیا اور دوسرے سے آپ کی ازواج مراد لیا ہے کیونکہ یہ بات گزر چکی ہے کہ اہل بیت کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے۔
Note 2
(4) قوله: بماء. یعنی ایسی جگہ جس میں پانی ہوتا ہے يدعى اس سے مراد یہ ہے کہ اس مقام کا یا اس چشمہ کا نام خم تھا۔ خم. خاء کو پیش اور میم کو تشدید، اور یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جحفہ کے پاس ایک مقام ہے جیسا کہ گزر چکا ہے یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف واپسی کے وقت پیش آیا ہے۔ وقوله: رسول ربي. سے مراد ملک الموت (موت کا فرشتہ) ہے۔ وقوله: الثقلين. ثاء اور قاف دونوں کو فتحہ (زبر) یعنی دو عظیم چیزیں۔ کتاب اللہ اور اہل بیت کو ان کی عظمت و قدر کی بناء پر ”ثقلین“ کہا گیا اور اس لئے بھی کہ ان پر عمل کرنا ان کی اتباع کرنے والے پر بھاری ہے۔ وقوله: فخذوا بكتاب الله. کتاب اللہ کو استنباط کے ذریعہ اور حفظ کے ذریعہ اور علم کے ذریعہ پکڑ لو۔ اور اعتقاد اور عمل کے ذریعہ اس کو تھام لو۔ اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کتاب میں شامل ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا“. (59، الحشر، آیت نمبر:7) ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“. (4، النساء، آیت نمبر:80) اور ”قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ“. (3، آل عمران، آیت نمبر:31) وقوله: فحث على كتاب الله. یعنی کتاب اللہ کی حفاظت اور اسکے الفاظ اور معانی کی رعایت اور اس پر عمل کرنے پر ابھارا اور ترغیب دیا۔ وقوله: واهل بيتي. یعنی ان دونوں میں سے دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ وقوله: اذكركم الله. یعنی میں تم کو میرے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ میں ان کی حفاظت اور ان کے احترام ان کے اکرام ان کی محبت و مودت میں اللہ کا حق ہونے کے بارے میں تم کو متنبہ کرتا ہوں۔ وقوله: وفي رواية. یعنی اولہما كتاب الله فيه الهدى والنور الخ کے بجائے كتاب الله هو حبل الله الخ ہے۔ وقوله: هو حبل الله. یعنی قرآن کی رسی کی طرح دو جہتیں ہیں وہ ترقی کا ذریعہ وسیلہ بھی ہوتا ہے اور ممکن ہے ذلت و تنزل کا ذریعہ بن جائے جیسا کہ دریائے نیل ہے مجرمین کیلئے پانی محبین کیلئے خون، اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے تو بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔ قرآن تمہارے حق میں حجت ہے تو تمہارے خلاف بھی حجت ہو سکتا ہے۔ ہم قرآن میں وہ باتیں بھی اتارتے ہیں جو مومنین کے لئے شفاء و رحمت ہیں۔ اور جو ظالموں کے لئے نہیں اضافہ کرتا سوائے خسارے کے۔ اللہ اس سے ہم کو نفع عطا فرمائے اور اس کے سبب سے ہم کو سربلند کرے۔ آمین (ماخوذ از: مرقات)