اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7730
انہی سے روایت ہے، کہا: انصار کے کچھ لوگوں نے کہا: جس وقت اللہ نے
اپنے رسول کو ہوازن کے مالوں میں سے(57) عطاء کیا جو کچھ عطاء کیا، آپ قریش کے کچھ لوگوں کو سو
سو اونٹ دینا شروع کئے تو انہوں نے کہا اللہ اللہ کے رسول کی کی شان بلند کرے آپ قریش کو
(زیادہ) دیتے ہیں اور ہمیں (کم دیکر) چھوڑ دیتے ہیں جبکہ ہماری تلواریں ان کا خون ٹپکا رہی ہیں سو
ان کی یہ گفتگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دی گئی تو آپ نے انصار کی طرف (کسی کو) بھیجا
اور انہیں چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا اور ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو نہیں بلایا جب وہ جمع
ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور کہا یہ کیا بات ہے جو تمہاری جانب
سے مجھے پہنچی تو ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا اب رہے ہم اصحاب رائے تو ان لوگوں نے کچھ نہیں کہا
اور اب رہے ہم میں سے کچھ نوعمر لوگ انہوں نے کہا اللہ اللہ کے رسول کی شان بلند کرے جو قریش کو
(زیادہ) دیتے ہیں اور انصار کو (کم دیکر) چھوڑ دیتے ہیں جبکہ ہماری تلواریں ان کا خون ٹپکا رہی ہیں تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں کفر سے قریب العہد لوگوں کو دے رہا ہوں ان کی
دلجوئی کرتے ہوئے کیا تم راضی نہیں ہوگے کہ لوگ تو مالوں کو لے جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے
رسول کے ساتھ لوٹو گے انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ بے شک ہم راضی ہوگئے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3147 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1059a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “Allah granted His Messenger”: Meaning He gave him spoils. The statement “he began”: Meaning the Messenger of Allah (ﷺ) started, and this was at Al-Ji’ranah upon his return from Ta’if. The statement “with their blood”: Meaning the blood of the disbelievers of Quraysh, due to our fighting them until they embraced Islam. The statement “inviting”: With a silent dal and dammah on the ‘ayn, meaning he did not call. In another version, with a fatha on the dal and a silent ‘ayn, meaning he did not leave anyone with them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : أفاء الله على رسوله : أي أعطاه فيئا، أي غنيمة. وقوله: «فطفق أي شرع رسول الله ، وهو بالجعرانة حين مرجعه من الطائف. وقوله: من دمائهم أي من دماء كفار قريش بمحاربتنا إياهم حتى يسلموا. وقوله: «لم يدع» بسكون الدال وضم العين، أي لم يطلب. وفي نسخة بفتح الدال وسكون العين، أي لم يترك معهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(57) قولہ: افاء الله على رسوله۔ یعنی اللہ نے آپ کو فیء یعنی غنیمت عطاء کیا۔ قولہ: فطفق۔ یعنی شروع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ اس وقت طائف سے لوٹتے ہوئے جعرانہ میں تھے۔ قولہ: من دمائهم۔ یعنی کفار قریش کے خون ہمارے ان سے جنگ کرنے کی وجہ سے یہاں تک کہ وہ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اسلام لائے۔ قوله: لم يدع. دال کو جزم ہے اور عین کو پیش ہے یعنی آپ نے طلب نہیں کیا اور ایک نسخہ میں دال کو زبر ہے اور عین کو جزم ہے یعنی ان کے ساتھ نہیں چھوڑا۔ (مرقات)