Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6030

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 6030Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7754
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں وہ بہت رقیق طبیعت اور نرم(4) دل کے ہیں ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے اور فخر اور تکبر اونٹ والوں میں ہے اور سکینت و وقار بکریوں والوں میں ہے(5)۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4388 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

most tender-hearted and softest of hearts

(1) His statement: “most tender-hearted and softest of hearts”: The Qadi said: This is the opposite of harshness, and softness contrasts with hardness. These terms are metaphorically used for the heart’s states. If the heart turns away from truth, rejects it, and is unaffected by verses and warnings, it is described as harsh, as truth does not penetrate it, and its core is hard, unmoved by admonition. Conversely, if it is the opposite, it is described as tender and soft, with a thin veil that does not resist the penetration of truth, and its essence is soft, affected by advice. After describing them thus, he followed with the result, saying: “Faith is Yemeni, and wisdom is Yemeni,” as a pure, tender, and soft heart leads to recognizing and affirming the truth, which is faith, and to submission to its demands and vigilance in actions, which is wisdom. Thus, their hearts are mines of faith and springs of wisdom, originating from Yemen. Faith and wisdom are attributed to Yemen to honor and elevate them. The intent is to favor the people of Yemen over others from the East. This is supported by his statement: “The people of Yemen have come to you,” followed by “Faith is Yemeni,” which does not negate its Hijazi origin but indicates the people of Yemen’s readiness to accept it, its prevalence among them, and their steadfastness in it. They were the ones who, through their support, enabled the conquest of Sham and Iraq during Umar ibn al-Khattab’s time. His statement: “wisdom is Yemeni” may refer to jurisprudence in religion or any righteous word that prevents its speaker from ruin. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Pride and arrogance are found among the owners of camels, while tranquility and dignity are found among the people of sheep

(2) His statement: “Pride and arrogance are found among the owners of camels, while tranquility and dignity are found among the people of sheep”: The Qadi said: Attributing arrogance to camel owners and dignity to sheep owners indicates that associating with animals affects the soul, imparting traits and manners suited to their nature. I say: This is why it is said that companionship influences the soul. This may also explain why every prophet tended sheep. The essence of the hadith is that the people of Yemen are characterized by faith and wisdom, camel owners by pride, and sheep owners by tranquility. Whoever seeks the company of people of faith and knowledge should associate with those like the people of Yemen in faith. Allah says: O you who believe, fear Allah and be with the truthful [At-Tawbah: 119]. This also hints at a miracle, as many saints appear in Yemen despite its small population, unlike other regions where, despite large populations, the righteous are few in proportion. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أرق أفئدة وألين قلوبا : قال القاضي : ضد الغلظة واللين مقابل القساوة، فاستعيرت في أحوال القلب، فإذا نبا عن الحق وأعرض عن قبوله ، ولم يتأثر عن الآيات والنذر يوصف بالغلظة؛ لأن الحق لا ينفذ فيه وجرم القلب صلب لا يؤثر فيه الوعظ، وإذا كان بعكس ذلك يوصف بالرقة واللين، فكان حجاب القلب رقيقا لا يأبى نفوذ الحق وجوهره لين يتأثر بالنصح، ثم لما وصفهم بذلك اتبعه ما هو كالنيجة والغاية بقوله: الإيمان يمان، والحكمة يمانية». فإن صفاء القلب ورقته ولين جوهره يؤدي به إلى عرفان الحق والتصديق به، وهو الإيمان والانقياد لما يوجبه ويقتضيه والتيقظ والاتقاء فيما يأتيه ويذره وهو الحكمة، فيكون قلوبهم معادن الإيمان وينابيع الحكمة، وهي قلوب منشؤها اليمن، نسب إليه الإيمان والحكمة معا؛ لانتسابهما إليه تنويها بذكرهما وتعظيما لشأنهما، فالمقصود تفضيل أهل اليمن على غيرهم من أهل المشرق، ويؤيد هذا قوله: «أتاكم أهل اليمن ثم قوله: «الإيمان يمان» لا ينافي كونه حجازيا، وإنما ينبئ عن استعداد أهل اليمن لقبول ذلك وفشوئه فيهم واستقرار أمرهم عليه فإنهم هم الذين فتحته بإمدادهم الشام والعراق زمن عمر بن الخطاب له، ثم قوله: والحكمة يمانية بالتخفيف. وفي نسخة بالتشديد، فقيل : أراد بها الفقه في الدين. وقيل: كل كلمة صالحة تمنع صاحبها عن الوقوع في الهلكة، ولما كانت قلوبهم معادن الإيمان وينابيع الحكمة، وكانت الخصلتان منتهى هممهم نسب الإيمان والحكمة إلى معادن نفوسهم ومساقط رؤسهم نسبة الشيء إلى مقره التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: والفخر والخيلاء في أصحاب الإبل إلخ : قال القاضي: تخصيص الخيلاء بأصحاب الإبل، والوقار بأهل الغنم يدل على أن مخالطة الحيوان تؤثر في النفس وتعدي إليها هيئات وأخلاقا تناسب طباعها وتلائم أحوالها. قلت: ولهذا. قيل: الصحبة تؤثر في النفس. ولعل هذا أيضًا وجه الحكمة في أن كل نبي رعى الغنم، وخلاصته الكلام ورابطة النظام بين فصول الحديث أن أهل اليمن يغلب عليهم الإيمان والحكمة، كما أن أهل الإبل يغلب عليهم الفخر، وأهل الغنم يغلب عليهم السكون، فمن أراد صحبة أهل الإيمان والعرفان فعليه بمصاحبة نحو أهل اليمن على وجه الإيمان قال تعالى: ﴿يَتَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُوا اللهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّدِقِينَ﴾ (التوبة: (۱۱۹). وفيه إشعار إلى إظهار معجزة، وهي أنه يظهر في اليمن كثير من الأولياء مع قلة أهله بخلاف سائر الأطراف؛ فإنه وإن ظهر منهم الصالحون فهم بالنسبة إلى كثرة خلائقهم قليلون. كذا في «المرقاة».

Note 1

(4) قوله: ارق افئدة و الين قلوبا. علامہ قاضی عیاض نے فرمایا ”رقة“ ”غلظة“ کی ضد ہے اور لین، قساوة کے مقابل ہے، رقت اور لین کو احوال قلب میں بطور استعارہ تعبیر کیا گیا ہے۔ پس جب دل حق سے بیزار ہوجائے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اور اس کو قبول کرنے سے اعراض کرے اور آیات اور تنبیہات سے متاثر نہ ہو تو اس کو غلظۃ (یعنی سختی) سے متصف کیا جاتا ہے کیونکہ حق اس میں نہیں اترتا اور جب قلب سخت ہو جاتا ہے وعظ اس میں اثر انداز نہیں ہوتا، اور جب اس کے برعکس ہو تو اس کو ملائمت اور نرمی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پس دل کا پردہ پتلا ہو جاتا ہے تو وہ حق کے نفوذ سے انکار نہیں کرتا اور اس کا جوہر نرم ہو جاتا ہے جو نصیحت سے متاثر ہوتا ہے پھر جب آپ نے ان کے اس وصف کو بیان فرما دیا تو فوراً اس کے بعد ہی آپ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جو اس کا نتیجہ اور اس کی غایت ہے اپنے قول ”الإيمان يمان والحكمة يمانية“ کے ذریعہ کیونکہ قلب کی صفائی اور اس کی نرمی اور اس کے جوہر کی ملائمت اس کو حق کی معرفت اور اس کی تصدیق تک پہنچاتی ہے اور یہی ایمان ہے اور اسی طرح ایمان جس کو واجب کرتا اور جس کا تقاضہ کرتا ہے اس پر عمل کرنا اور بیداری اور اوامر و نواہی میں پرہیزگاری ہی حکمت ہے۔ پس ان کے دل ایمان کی کانیں اور حکمت کے سرچشمے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ قلوب ہیں جن کی نشونما یمن میں ہوتی ہے، ایمان اور حکمت یمن میں داخل ہونے کی وجہ سے ان کی نسبت یمن کی طرف ایک ساتھ کی گئی ہے ان دونوں کے ذکر کو بلند کرنے کیلئے اور ان کی عظمت شان کیلئے، پس اہل یمن کو اہل مشرق میں سے دوسروں پر فضیلت دینا مقصود ہے اور آپ کا یہ ارشاد اتاكم اهل اليمن اس کی تائید کرتا ہے۔ پھر آپ کا قول الإيمان يمان ایمان کے حجازی ہونے کے منافی نہیں ہے اور یہ ارشاد اہل یمن کے ایمان کو قبول کرنے کی صلاحیت اور ایمان کے ان میں پھیلنے اور اس پر ان کے معاملہ کے استحکام کو بتاتا ہے، پس بے شک یہ وہی لوگ ہیں جن کی فوری مدد کے ذریعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ملک شام اور عراق فتح ہوا۔ ثم قوله: الحكمة يمانية. یاء بغیر تشدید کے ہے اور ایک نسخہ میں تشدید کے ساتھ ہے۔ کہا گیا کہ اس سے دین کی سمجھ مراد ہے، اور کہا گیا کہ یہ وہ کلمہ جو اپنے صاحب کو ہلاک ہونے سے بچائے وہ حکمت ہے، اور جب ان کے دل ایمان کی کانیں اور حکمت کے سرچشمے ہیں اور یہ دو خصلتیں ان کے ارادوں کی انتہاء ہیں تو ایمان اور حکمت کو ان کی قیام گاہوں اور ان کی جائے پیدائش کی طرف منسوب کیا گیا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چیز کو اس کے ٹھکانے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ (5) قوله: والفخر والخيلاء في اصحاب الإبل الخ. علامہ قاضی نے فرمایا کہ خیلاء و (فخر) کو اونٹ والوں سے اور وقار کو بکریوں والوں سے خاص کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ میل جول انسانی نفس میں اثر انداز ہوتا ہے اور نفس میں ایسے عادات و اطوار کا سبب بنتا ہے جو جانوروں کی طبیعتوں کے مناسب اور ان کے احوال کے موافق ہوتے ہیں۔ (حاشیہ پچھلے صفحے سے) میں کہتا ہوں: اس لئے کہا گیا ہے صحبت، نفس انسانی میں اثر انداز ہوتی ہے اور وقار کو بکری والوں کے ساتھ خاص کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر پیغمبر نے بکریوں کی نگہبانی کی۔ اور خلاصہ کلام اور حدیث کے مختلف پہلوؤں کے درمیان ربط یہ ہے کہ اہل یمن پر اسی طرح ایمان و حکمت غالب ہے جیسے اہل ابل (اونٹ والوں) پر فخر اور اہل غنم (بکریوں والوں) پر سکینت غالب ہے پس جو کوئی اہل ایمان اور اہل عرفان کی صحبت چاہتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اہل یمن جیسے ایمان والوں کی ہمنشینی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اور اس میں معجزہ کے اظہار کا اشارہ ہے وہ یہ کہ باشندگان یمن کی قلت کے باوجود ان میں اولیاء کی کثرت ہوگی برخلاف دیگر ممالک کے، کیونکہ اگرچہ ان میں صالحین ظاہر ہونگے لیکن وہ ان کی کثرت تعداد کی نسبت کم ہونگے۔ (مرقات)